نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کیلئے کمیٹیاں تشکیل دینے کا مطالبہ

ملک میں سیاسی استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے اپوزیشن لیڈر کی فوری تعیناتی، خواتین سیاسی کارکنوں کی بحالی، میڈیا سنسرشپ کے خاتمے اور سیاسی مقدمات واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے تحت اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں، دانشوروں، صحافیوں، وکلا اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی پہلی نشست منعقد ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور مذاکرات کے مستقبل پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے طریقہ کار کو واضح کرنے سے متعلق اہم تجاویز سامنے آئیں۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے اپنے جاری کردہ اعلامیے میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے متعدد نکات شامل کیے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے جو قومی سطح پر سیاسی مذاکرات کے عمل کی نگرانی کرے گی۔

کمیٹی سیاسی قیدیوں کو اعتماد میں لے کر ڈائیلاگ کمیٹی کے دائرہ کار کو وسعت دے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جا سکے۔

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ خواتین سیاسی کارکنوں کو فوری بحال کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی رہائی کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے اعتماد کی فضا قائم ہو سکے گی۔

اعلامیے میں میڈیا پر عائد سینسرشپ کے خاتمے اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات واپس لینے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے مطابق بات چیت کے عمل کو جاری رکھا جائے گا جبکہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں منعقد ہوگا۔

Scroll to Top