اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے بیچ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے حالیہ نجی ٹی وی پروگرام میں ٹی ٹی پی کو براہِ راست دہشتگرد قرار دینے سے گریز کیا۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ وہ کسی پر براہِ راست الزام عائد نہیں کر سکتے، تاہم ان کے بقول ریاست کے خلاف کارروائیوں میں ملوث جو بھی عناصر ہوں، چاہے وہ ٹی ٹی پی کے ہوں یا کسی اور گروہ کے، وہ دہشتگرد کہلائیں گے۔
پروگرام کے دوران بار بار سوالات کے باوجود معاون خصوصی نے کالعدم تنظیم کو کھلے الفاظ میں دہشتگرد قرار دینے سے احتراز کیا، جس پر مبصرین نے اس موقف پر بحث کی۔
شفیع جان کے اس مؤقف کو کچھ حلقوں نے نرم موقف کے طور پر دیکھا، جبکہ کچھ نے اسے غیر واضح قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : وینزویلا سے بچ کر آئے روسی جہاز کے عملے کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، وائٹ ہاؤس
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے پروگرام میں دوٹوک انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی ایک دہشتگرد تنظیم ہے اور افغان طالبان ان عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ یہ عناصر نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے ملک میں ریاست اور عوام کے لیے خطرہ ہیں۔





