محمد عباس
باجوڑ: ضلع باجوڑ میں منشیات فروشوں سے مبینہ روابط کے الزام پر 34 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
یہ کارروائی ڈی پی او باجوڑ وقاص رفیق کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔
ڈی پی او باجوڑ کے مطابق معطل کیے گئے اہلکار منشیات فروشوں سے مالی فوائد حاصل کرنے اور دیگر غیر قانونی روابط میں ملوث پائے گئے۔
ان اہلکاروں کی سرگرمیوں پر کافی عرصے سے خفیہ نگرانی جاری تھی، جس کے بعد شواہد سامنے آنے پر یہ فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ منشیات کے خلاف جاری مہم کے دوران گزشتہ ماہ بھی ایسے ہی الزامات پر 6 پولیس اہلکاروں کو معطل کیا جا چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس میں احتساب کا عمل بلا تفریق جاری ہے۔
ڈی پی او وقاص رفیق نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ادارے سے ہو۔
یہ بھی پڑھیں : ملاکنڈ میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑا آپریشن، افغان شہری بھی گرفتار
جبکہ دوسری جانب ملاکنڈ میں وزیر ایکسائز سید فخر جہان، سیکرٹری ایکسائز خالد الیاس اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان کی ہدایت پر منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
تھانہ ایکسائز ملاکنڈ ریجن نے پل چوکی کے قریبی دریائے سوات کے اراضیات میں منشیات کے بڑے گروہ زاہد آفریدی گروپ کے خلاف آپریشن کیا۔
اطلاع موصول ہوئی تھی کہ زاہد آفریدی، ریحان ولد امیر زمان اور نوید ولد زولا خان کم عمر لڑکوں کو منشیات فروخت کر رہے ہیں۔
آپریشن کے دوران چھاپہ مارا گیا، تاہم کھلے مقام اور خریداروں کے بھیس میں موجود ملزم زاہد آفریدی اور ریحان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ ملزم نوید ولد زولا خان کو سخت مزاحمت کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔
ملزم نوید سے موقع پر 512 گرام چرس اور 70 عدد ٹوکن برآمد ہوئے جو وہ فروخت کر رہا تھا۔ نوید افغان شہری ہے اور اس کے خلاف ضلع ملاکنڈ میں منشیات فروشی اور چوری کے متعدد مقدمات درج ہیں۔





