سفر کے دوران الٹی اور متلی کیوں آتی ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

سفر کے دوران اکثر لوگوں کو متلی اور الٹی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو آرام اور سکون کو متاثر کرتی ہے،یہ کیوں ہوتا ہے اور سفر کو زیادہ آرام دہ بنانے کے آسان طریقے کیا ہیں۔

سفر کے دوران الٹی یا متلی کا مسئلہ ہر کسی کو یکساں طور پر متاثر نہیں کرتا، کچھ افراد کو سفر شروع ہوتے ہی بے چینی اور چکر آنے لگتے ہیں جبکہ بعض کو یہ کیفیت طویل سفر کے بعد محسوس ہوتی ہے، کچی سڑکیں، پہاڑی راستے، گاڑی میں جھٹکے اور اندر کی بدبو اس مسئلے کو بڑھا سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق دماغ میں موجود ایک سیال کی حرکت سفر کے دوران ارتعاش پیدا کرتی ہے جو گردن اور پھر سر تک پہنچتی ہے، اس سے دماغ کے توازن میں خلل پڑتا ہے اور متلی، چکر اور بے سکونی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور اگر شدت بڑھ جائے تو قے بھی ہو سکتی ہے، اس مجموعی کیفیت کو موشن سکنس کہا جاتا ہے۔

سفر کے دوران معدے کی حالت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، خالی پیٹ سفر کرنے والے افراد میں معدے کے ویگس اعصاب زیادہ فعال ہو جاتے ہیں جو دل اور گردن کے اعصاب کے ذریعے دماغ اور جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے چکر آنے لگتے ہیں۔

 بھاری کھانے کے بعد سفر کرنے والے افراد میں قے کا امکان بڑھ جاتا ہے، اس لیے ہلکا کھانا کھانے کی تجویز دی جاتی ہے۔

موشن سکنس صرف سفر کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات یہ دماغی بیماری، دوائیوں کے اثر یا دماغی ٹیومر کی علامت بھی ہو سکتی ہے، اس لیے بار بار قے ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گرم چائے یا کافی؟ رک جائیں، یہ آپ کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے

سفر کے دوران قے سے بچنے کے لیے چند اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:

 سفر سے پہلے ہلکا کھانا یا ناشتہ کریں، ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کے مشورے سے دوائیں استعمال کریں، گاڑی میں نیند لینے سے گریز کریں، متلی محسوس ہونے پر فوراً گاڑی روکیں اور آرام کریں، کتاب یا موبائل فون سے پرہیز کریں، جسم کی پوزیشن مستحکم رکھیں اور ممکن ہو تو سامنے والی نشست پر بیٹھیں یا گاڑی خود چلائیں، تمباکو نوشی سے بچیں اور خوشگوار موسیقی سنیں تاکہ سفر آرام دہ اور متلی کم محسوس ہو۔

Scroll to Top