واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں ہلاکتوں کے بعد مظاہرین کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، یہ فیصلہ بنیادی طور پر ایران میں مظاہرین کے حق میں کیا گیا ہے۔
امریکی ٹی وی کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے مختلف فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف سائبر آپریشنز، نئی پابندیاں اور اسٹار لنک کے ذریعے انٹرنیٹ کی بحالی کے آپشنز بھی زیر غور ہیں۔
ایران نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو جائز اہداف کے طور پر نشانہ بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : احتجاج کریں لیکن ملک اور معصوم عوام کا نقصان نہ کریں، ایرانی صدر
اسرائیل بھی ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت کے پیشِ نظر ہائی الرٹ پر ہے۔
ایران میں 14 روز سے مظاہرے جاری ہیں۔ ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق دو ہفتے کے دوران 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی انسانی حقوق تنظیم HRA کا دعویٰ ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد 490 ہے۔
اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے، اور عالمی برادری ایران و امریکہ کے درمیان ممکنہ تصادم کے خطرے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔





