ہم کس ملک پر پہلے حملہ کریں؟ اجیت ڈوول کے جملے نے بھارت میں خطرناک بحث چھیڑ دی

ہم کس ملک پر پہلے حملہ کریں؟ اجیت ڈوول کے جملے نے بھارت میں خطرناک بحث چھیڑ دی

بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوول کے ایک حالیہ بیان نے ملک بھر میں شدید سیاسی، سماجی اور فکری بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک عوامی تقریب میں “تاریخ کا بدلہ لینے” سے متعلق ان کے الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اپوزیشن، صحافیوں اور دانشوروں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کے حامی حلقے ان کے دفاع میں کھڑے نظر آتے ہیں

اجیت ڈوول نے سنیچر کے روز ’ڈیولپڈ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ 2026‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ“تاریخ ہمیں چیلنج کرتی ہے، ہر نوجوان کے اندر وہ آگ ہونی چاہیے۔ بدلہ ایک اچھا لفظ نہیں، لیکن بدلہ بذاتِ خود ایک طاقت ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ سے ایک عظیم تہذیب رہا ہے، مگر ماضی میں سلامتی کو نظرانداز کرنے کے باعث قوم کو بھاری قیمت چکانا پڑی۔ ان کے مطابق“ہمارے گاؤں جلائے گئے، ہماری تہذیب کو تباہ کیا گیا، ہمارے مندروں کو لوٹا گیا اور ہم خاموش تماشائی بنے رہے۔ یہ تاریخ ہمیں للکارتی ہے۔”

اپوزیشن کا شدید ردِعمل
اجیت ڈوول کے اس بیان پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت تنقید کی ہے۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے اس بیان کو “افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک اعلیٰ ریاستی عہدیدار کا اس طرح کی زبان استعمال کرنا خطرناک ہے۔

محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ“یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ قومی سلامتی کا ذمہ دار شخص نفرت انگیز فرقہ وارانہ سوچ کو فروغ دے رہا ہے، جو بالآخر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو معمول بنا سکتی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ“21ویں صدی میں صدیوں پرانے واقعات کا بدلہ لینے کی بات دراصل غریب اور ناخواندہ نوجوانوں کو اقلیتوں کے خلاف اکسانے کے مترادف ہے، جو پہلے ہی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

صحافیوں اور دانشوروں کے سوالات
سینئر صحافی اور مصنف تولین سنگھ نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ“اگر تاریخ کا بدلہ لینا ہے تو سب سے پہلے کس ملک پر حملہ کیا جائے؟ افغانستان، ازبکستان یا ترکی؟”

دی ہندو کی سفارتی امور کی ایڈیٹر سوہاسینی حیدر نے بھی سوال اٹھایا کہ آیا قومی سلامتی کے مشیر واقعی بدلے کی کسی عملی حکمت عملی کا اشارہ دے رہے ہیں۔

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اور کانگریس رہنما ڈاکٹر رتن لال نے کہا کہ اگر یہ بیانات درست ہیں تو سب سے پہلے قربانی دینے والوں میں خود ڈوول کے اہلِ خانہ ہونے چاہئیں۔

کانگریس کا سخت موقف
کانگریس کی قومی ترجمان ڈاکٹر شمع محمد نے این ایس اے ڈوول سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ“جن کا کام ملک کی حفاظت ہے، وہ نوجوانوں کو بدلے کی آگ میں جھونک رہے ہیں۔ پہلے قوم کو یہ جواب دیا جائے کہ پلوامہ، پہلگام اور دہلی حملوں کے ذمہ دار کہاں ہیں؟”

حامی حلقوں کا دفاع
دوسری جانب اجیت ڈوول کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار نتن گوکھلے نے کہا کہ پوری تقریر سنے بغیر رائے قائم کرنا غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔پروفیسر شریش کاشیکر اور آندھرا پردیش کے وزیر ستیہ کمار یادو نے بھی ڈوول کے خطاب کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد نوجوانوں کو قومی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا، نہ کہ نفرت یا تشدد کو فروغ دینا۔

سیاسی اور سماجی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اجیت ڈوول کا “تاریخ کا بدلہ” والا بیان بھارت میں پہلے سے موجود سیاسی اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف ماضی کے زخموں کو کریدتے ہیں بلکہ مستقبل میں داخلی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اجیت ڈوول کے اس بیان نے بھارت میں ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر دیے گئے بیانات کی حدود کیا ہونی چاہئیں، اور آیا تاریخ کے نام پر بدلہ لینے کی سوچ ملک کو آگے لے جائے گی یا مزید تنازعات کی طرف دھکیل دے گی۔

Scroll to Top