یوٹیوب پر 140 سال طویل وائرل ویڈیو : حقیقت سامنے آگئی

یوٹیوب پر حالیہ دنوں ایک مبینہ طور پر 140 سال طویل ویڈیو نے صارفین کو حیران کر دیا، تاہم اب اس عجیب و غریب وائرل ویڈیو کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ہے۔

یہ ویڈیو یوٹیوب کے ایک چینل shinywr پر اپ لوڈ کی گئی تھی، جہاں پلیٹ فارم پر اس کا دورانیہ 1,234,567 گھنٹے اور 30 منٹ دکھایا گیا، جو حساب کے مطابق تقریباً 140 سال بنتا ہے۔ غیر معمولی دورانیے کی وجہ سے ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے توجہ کا مرکز بن گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ویڈیو کے اندر کوئی مواد موجود نہیں۔ نہ اس میں کوئی تصویر ہے، نہ آواز اور نہ ہی کوئی کہانی، بلکہ صرف ایک سیاہ اسکرین اور سوالیہ نشان کا آئیکن نظر آتا ہے۔

صارفین جب ویڈیو کھولتے ہیں تو انہیں دورانیہ غیر معمولی طور پر طویل دکھائی دیتا ہے جو بظاہر بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے اسی وجہ سے اسے دنیا کی سب سے لمبی ویڈیو قرار دیا جانے لگا۔

تاہم ڈیگزرٹو اور لیٹسٹلی کی رپورٹس کے مطابق جب ویڈیو کو چلایا جاتا ہے تو اس کی ٹائم لائن صرف 12 گھنٹے، 34 منٹ اور 56 سیکنڈ تک محدود رہتی ہے جس کے بعد ویڈیو خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ یوں اسکرین پر نظر آنے والا 140 سال کا دورانیہ درحقیقت ویڈیو کا حصہ ہی نہیں ہوتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یوٹیوب کی تکنیکی حدود کے مطابق کسی بھی ویڈیو کی زیادہ سے زیادہ مدت تقریباً 12 گھنٹے یا 128 جی بی سائز تک ہی ہو سکتی ہے۔

فیکٹ چیک ویب سائٹس نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی واقعی 140 سال طویل ویڈیو نہیں بلکہ یوٹیوب کے میٹا ڈیٹا میں آنے والی ایک تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہے۔

ویڈیو کے نیچے ہزاروں تبصرے بھی کیے گئے ہیں۔ کچھ صارفین نے اسے یوٹیوب کا خفیہ تجربہ قرار دیا، کچھ نے اسے آرٹ پروجیکٹ یا کسی پراسرار منصوبے سے جوڑا، جبکہ کئی افراد نے اسے انٹرنیٹ کی ایک اور عجیب و غریب حرکت سمجھ کر مذاق کا نشانہ بنایا۔

بالآخر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یوٹیوب پر نظر آنے والی مبینہ 140 سالہ ویڈیو نہ کوئی راز ہے اور نہ ہی کوئی معجزہ، بلکہ محض ایک تکنیکی گلچ کا نتیجہ ہے۔

Scroll to Top