اسلام آباد: وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی غیرقانونی ایجنڈے سے باز آ جائے۔
وفاقی دارالحکومت سے جاری بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی پر بریفنگ کے لیے خط لکھنا بدنیتی پر مبنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو یہ تک معلوم نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کون کر رہا ہے، جبکہ خط لکھنا اور ان کیمرہ بریفنگ کا مطالبہ کرنا نہایت غیر سنجیدہ اور نامناسب عمل ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایسی باتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ اگر ان کیمرہ بریفنگ درکار ہے تو دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کریں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ان اجلاسوں میں آتے ہی نہیں۔
مشیرِ وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ 28ویں ترمیم میں وہ نکات شامل کیے جائیں جن کا وعدہ عوام سے کیا گیا تھا، تاکہ عام شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان معاملات پر اتفاقِ رائے کے بعد ترمیم لائی جائے گی، جبکہ ووٹرز کی عمر یا حکومت کی مدت بڑھانے سے متعلق کسی قسم کی قانون سازی زیر غور نہیں ہے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ حکومتی اندازوں کے مطابق چند ایک افراد ہی باہر نکلیں گے اور دفعہ 144 کے نفاذ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں : یوٹیوب پر 140 سال طویل وائرل ویڈیو : حقیقت سامنے آگئی
انہوں نے پی ٹی آئی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیرقانونی سرگرمیوں سے باز آ جائے کیونکہ تشدد کے سوا انہیں کچھ نہیں آتا۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرتی ہے اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ امید ہے مولانا فضل الرحمان 8 فروری کو کسی قسم کی پرتشدد سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے، کیونکہ حکومت ہر فریق کے کردار سے بخوبی آگاہ ہے۔





