امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہروں کے تناظر میں اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران میں موجود امریکی شہریوں کے لیے یہ اقدام بہتر ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران میں ہلاکتوں کی درست تعداد ابھی واضح نہیں، مختلف ذرائع مختلف اعداد و شمار دے رہے ہیں، لیکن غالباً اگلے 24 گھنٹوں کے اندر صورتحال واضح ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت مظاہرین کی حمایت کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کا مطلب ہر شخص خود ہی سمجھ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی ایرانی مظاہرین کو پیغام دیا تھا کہ وہ اپنے احتجاج کو جاری رکھیں اور اپنے اداروں پر کنٹرول قائم کریں، اور ان کی مدد پہنچ رہی ہے۔
صدر نے کہا کہ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھے جائیں، اور انہیں سخت سزا دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ اپنی تمام ملاقاتیں منسوخ کر چکے ہیں جب تک مظاہرین پر تشدد اور قتل عام بند نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں : انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستانی نمائندگی یقینی، آئی سی سی نے اہم فیصلہ کر دیا
ٹرمپ کے بیان سے ایک بار پھر واضح ہوا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران میں مظاہرین کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور خطے میں اپنی پالیسی میں سخت موقف اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ اپنی تمام ملاقاتیں اس وقت تک منسوخ کردی ہیں جب مظاہرین کا قتل عام بند نہیں کیا جاتا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں لکھا کہ مدد پہنچ رہی ہے۔





