اڈیالہ جیل کے سامنے پی ٹی آئی کا دھرنا ناکام، علیمہ خان کارکنان چھوڑ کر واپس روانہ

راولپنڈی: اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا دھرنا ایک بار پھر ناکام ثابت ہوا۔

پولیس نے دھرنے کے دوران کریک ڈاؤن شروع کیا، جس کے باعث کارکنان دوڑیں لگاتے ہوئے واپس روانہ ہوئے۔

ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان اور ان کی دونوں بہنیں دھرنے کو ختم کر کے اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر واپس روانہ ہو گئیں۔ دھرنے کے مقام سے دیگر کارکنان بھی واپس گھروں کو روانہ ہوئے۔

یہ دھرنا اس وقت شروع ہوا جب علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروائے جانے پر 11 گھنٹے تک فیکٹری ناکے پر احتجاج کیا۔

اس دوران تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، شاہد خٹک اور دیگر بھی موجود تھے۔

یہ پہلی بار نہیں جب پی ٹی آئی کے احتجاج یا دھرنے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اسٹریٹ موومنٹ اور دیگر احتجاجی مہمات میں بھی پارٹی کو وہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی جو وہ دعویٰ کرتی رہی۔

درحقیقت 13 سال سے صوبے میں حکومت کرنے کے باوجود پی ٹی آئی کی پالیسیوں کی عملی زمین پر کوئی اثر نظر نہیں آ رہا، اور پارٹی صرف دعوے کرنے تک محدود رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ نے امریکی شہریوں کو ایران سے فوری واپسی کی ہدایت دے دی

عوامی سطح پر پارٹی کی ناکامی کے اثرات واضح ہیں۔ عوام نے کرپشن اور انتظامی ناکامی کے باعث پی ٹی آئی کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ احتجاجی مہمات میں کارکنان کی تعداد بھی محدود رہی۔

سیاسی ماہرین کے مطابق یہ دھرنا اور احتجاجی حکمت عملی پی ٹی آئی کے لیے عوامی سطح پر مزید منفی تاثر چھوڑے گا۔

دھرنے کے دوران پولیس کی جانب سے فوری ردعمل اور کریک ڈاؤن کے نتیجے میں صورتحال پر مکمل قابو پایا گیا۔ ترجمان پولیس نے بتایا کہ کارکنان کی واپسی میں کوئی حادثہ نہیں ہوا اور قانون کے مطابق اقدامات کیے گئے۔

Scroll to Top