لاہور: آج 14 سال مکمل ہو گئے جب پاکستان کی ہونہار بیٹی ارفع کریم نے ہمیں چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئیں۔
ارفع کریم نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور محنت کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں آئی ٹی کے میدان میں اپنا اور ملک کا نام روشن کیا۔
ارفع کریم 1995ء میں فیصل آباد کے گاؤں چک 2 جے بی رام دیوالی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کم عمری میں ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور 9 سال کی عمر میں مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل امتحان پاس کرکے دنیا کو حیران کر دیا۔ ان کی کارکردگی نے آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان کا نام بلند کیا۔
ارفع کریم کو ان کی نمایاں کارکردگی کے لیے کم عمری میں ہی متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ 2005ء میں مائیکروسافٹ کارپوریشن کی جانب سے انہیں سرٹیفائیڈ ایپلی کیشن سرٹیفکیٹ دیا گیا، جس کے بعد مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس نے خصوصی طور پر انہیں امریکہ بلا کر ملاقات کی۔
ارفع کریم نے فاطمہ جناح گولڈ میڈل، سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ، پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سمیت کئی قومی و بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کیے۔ ان کی اس شاندار کامیابی نے نوجوان پاکستانیوں کے لیے ایک مثال قائم کی۔
یہ بھی پڑھیں : صدرمملکت آصف زرداری 4 روزہ دورے پر بحرین پہنچ گئے
بدقسمتی سے دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ آئی ٹی ماہر ارفع کریم 14 جنوری 2012ء کو صرف 16 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئیں۔ ان کی یاد آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں زندہ ہے۔
ارفع کریم کے خدمات اور کارناموں کو یادگار بنانے کے لیے پنجاب حکومت نے لاہور میں قائم آئی ٹی ٹاور کا نام ارفع کریم آئی ٹی ٹاور رکھا، تاکہ ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے۔
ارفع کریم کی محنت اور لگن نے ثابت کیا کہ محدود عمر میں بھی عظیم کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں، اور ان کی کہانی ہر پاکستانی نوجوان کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب ہے۔





