ٹرمپ ایران کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں، ترجمان وائٹ ہاوس

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے تمام آپشنز کھلے ہیں اور اس معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران کیرولین لیوٹ نے واضح کیا کہ اگر ایران میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور قتل و غارت جاری رہیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران میں اب تک 800 سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے، جو کہ اس معاملے پر امریکی حکومت کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔

کیرولین لیوٹ نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے گرین لینڈ میں ممکنہ فوجی تعیناتی صدر ٹرمپ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوگی اور امریکہ کی جانب سے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ جاری مذاکرات اسی انداز میں جاری رہیں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ سے متعلق حالیہ اجلاس مثبت نتائج کے حامل رہے اور صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے معاملے میں تمام متبادل آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں، لیکن مظاہرین پر تشدد جاری رہا تو سخت ردعمل دیں گے، ٹرمپ

 جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران میں قتل و غارت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور مظاہرین کو سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔

صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ اگر ایران میں مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رہا تو واشنگٹن سخت ردعمل دے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکومت انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے توجہ مرکوز رکھے گی۔

ٹرمپ نے وینزویلا کے حوالے سے بھی اعلان کیا کہ وہاں راز افشاکرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پینٹاگون کے کنٹریکٹر کو وینزویلا آپریشن سے متعلق خفیہ معلومات لیک کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

صدر نے گرین لینڈ کے بارے میں بھی کہا ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکمت عملی کے نتیجے میں عالمی سطح پر 8 جنگیں روکی گئی ہیں اور دنیا میں تنازعات میں کمی آئی ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ وہاں موجود نہ رہا تو روس اور چین خطے میں داخل ہو جائیں گے، اور ڈنمارک اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کر سکتا، لیکن امریکہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

Scroll to Top