پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جو دہائیوں سے دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے، مگر بدقسمتی سے وفاقی حکومت صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کی ادائیگی میں مسلسل ہٹ دھرمی کر رہی ہے۔
شفیع جان نے جاری بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور صوبے کو اربوں روپے کا معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔
علاوہ ازیں ہر سال سیلاب، بارشوں اور دیگر قدرتی آفات کے باعث صوبے کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لیکن وفاقی حکومت ان حقائق سے مسلسل آنکھیں چرا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی دنیا بھر کا مسئلہ بن چکی ہے، مگر اس کے اثرات سب سے زیادہ خیبرپختونخوا نے جھیلے ہیں۔
اسی طرح موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات بھی سب سے زیادہ اسی صوبے پر پڑ رہے ہیں، جہاں ہر سال سیلاب سرکاری املاک، عوام کے گھروں، کاروبار اور فصلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔
شفیع جان نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرنا وفاق کی ذمہ داری تھی، لیکن عملی طور پر صرف پنجاب کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی انتقام کے تحت وفاقی حکومت صوبے کے مالی حقوق بھی ادا نہیں کر رہی، جس میں پن بجلی کے خالص منافع سمیت اربوں روپے کے بقایا جات شامل ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کی ترقیاتی سرگرمیاں اسی تاخیر کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ ایران کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں، ترجمان وائٹ ہاوس
معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی اور دیگر شجرکاری منصوبوں کے ذریعے ریکارڈ تعداد میں درخت لگائے گئے، جس کے نتیجے میں جنگلات کا رقبہ 19 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 26 فیصد تک پہنچ گیا، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ ماحول دشمن اقدامات میں مصروف ہے، جس کی مثال اسلام آباد میں 30 ہزار سے زیادہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے، جو موسمیاتی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ ماحول کا تحفظ حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر وفاقی اقدامات آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔
انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے تمام مالی بقایا جات فوری ادا کیے جائیں تاکہ صوبے میں ترقیاتی عمل کو تیز کیا جا سکے اور عوام کو ان کے جائز حقوق فراہم کیے جائیں۔





