علی محمد خان نے پی ٹی آئی کو کمیٹیوں میں واپس جانے کا مشورہ دے دیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ قائمہ کمیٹیوں میں واپس جائیں اور وفاقی حکومت کے ساتھ سہیل آفریدی سمیت مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کریں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں میں بیٹھ کر پی ٹی آئی حکومت کو سخت وقت دے سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پارٹی قیادت کو یہ تجویز دی ہے کہ قائمہ کمیٹیوں سے نکلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے تاکہ پارٹی کا کردار مضبوط رہے۔

علی محمد خان نے کہا کہ کمیٹیوں میں حکومت اپنی مرضی کے مطابق قوانین پاس کرتی ہے، اس لیے اگر پی ٹی آئی وہاں واپس جائے تو اپوزیشن کمیٹیاں حکومتی اقدامات پر مؤثر چیک رکھ سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سیاسی فورمز نہیں چھوڑنے چاہیے اور جو فورمز موجود ہیں، ان پر ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے تنقید کی کہ حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی نہ ایوانوں میں رہے نہ کمیٹیوں میں، لیکن پارٹی کو اپنا کام جاری رکھنا ہوگا۔

اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کے حوالے سے سوال پر علی محمد خان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو بطور اپوزیشن لیڈر نامزد کیا جائے گا اور وہ اس عمل کو مثبت دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وفاق کی ہٹ دھرمی نے خیبرپختونخوا کے مالی حقوق روک دیے، شفیع جان

انہوں نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تعلقات اتنے تلخ ہو چکے ہیں کہ ثالثی کی ضرورت ہے۔

علی محمد خان نے مزید کہا کہ علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی ایوانوں میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ علامہ ناصر عباس کو ایوانوں میں کافی عزت حاصل ہے جبکہ محمود خان اچکزئی کے نواز شریف سے اچھے تعلقات ہیں، جس کی بنیاد پر یہ دونوں ثالثی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Scroll to Top