دل کا دورہ کن لوگوں کو زیادہ ہوتا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں؟

ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ طویل وقت تک بیٹھ کر گزارنا دل کی بیماریوں کے خطرے میں نمایاں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جو دنیا بھر میں امراضِ قلب کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے۔

حالیہ تحقیق میں گلوبل برڈن آف ڈیزیز (GBD) کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا، جس میں مختلف ممالک کے افراد کی جسمانی سرگرمیوں، طرزِ زندگی اور صحت سے متعلق دیگر عوامل کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جسمانی طور پر متحرک افراد میں دل کی صحت بہتر رہتی ہے، جبکہ زیادہ وقت بیٹھنے کی عادت امراضِ قلب کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔

تحقیق کے مطابق زیادہ دیر بیٹھنے سے ہر سال دل کی بیماریوں کے باعث اموات کی شرح میں اوسطاً 0.70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

محققین نے ہزاروں افراد کے ڈیٹا کا موازنہ جسمانی طور پر فعال اور غیر فعال افراد کے درمیان کیا، جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ جو لوگ باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی اختیار کرتے ہیں، ان میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ وقت بیٹھنے والوں کے مقابلے میں 83 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق کا ڈیٹا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں سے دوری دنیا بھر میں دل کی بیماریوں کے بوجھ کو مسلسل بڑھا رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کا حل مشکل نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں معمولی جسمانی سرگرمیاں اپنا کر دل کی بیماریوں کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دل کی بیماری کے مریضوں کے لیے خوشخبری

جبکہ دوسری جانب کینیڈا اور آسٹریلیا کے مشترکہ تحقیقاتی اداروں کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ فش آئل سپلیمنٹس لینے سے دل اور قلبی امراض کے خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، خاص طور پر وہ مریض جو گردوں کی ناکامی پر ڈائلائسز کروا رہے ہیں۔

تحقیق کے نتائج نیو انگلینڈ جنرل آف میڈیسن میں شائع ہوئے، جس کے مطابق فش آئل سپلیمنٹس استعمال کرنے والے مریضوں میں ہارٹ اٹیک، فالج، اور قلبی وجوہات سے اموات کے واقعات دیگر مریضوں کے مقابلے میں کم دیکھے گئے۔

فش آئل سپلیمنٹس میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز دل کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات بھی واضح ہوئی کہ یہ سپلیمنٹس نہ صرف موجودہ دل کی بیماری کے خطرات کم کرنے میں مؤثر ہیں بلکہ مریضوں کی مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نتائج عام صحت مند افراد پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ ہر شخص کو سپلیمنٹس استعمال کرنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔

Scroll to Top