اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بیرونِ ملک سے گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے درآمدی پالیسی آرڈر 2022 میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی منظوری کے بعد وزارتِ تجارت نے ترمیم شدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پرسنل بیگج اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب بیرونِ ملک سے گاڑیاں صرف ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم اور تحفہ اسکیم کے تحت ہی درآمد کی جا سکیں گی۔
ترمیم شدہ پالیسی کے تحت درآمد کی جانے والی گاڑی کم از کم ایک سال تک کسی دوسرے شخص کے نام منتقل نہیں کی جا سکے گی۔
اس کے علاوہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے مقررہ مدت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے، جو پہلے 700 دن تھی، اب اسے 850 دن کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ تجارت کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر کم سے کم حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات پر عملدرآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مزید وضاحت کی گئی کہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت درآمد کی جانے والی گاڑی اسی ملک سے ہونی چاہیے جہاں سمندر پار پاکستانی مستقل طور پر مقیم ہیں، تاکہ درآمدی عمل شفاف اور درست رہے۔
یہ ترمیمات غیر ضروری درآمدات کو روکنے، ملکی صنعت کی حفاظت اور ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینے کے لیے کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : درآمد شدہ موبائل فونز پر ٹیکسز کے متعلق اہم خبر سامنے آ گئی
جبکہ دوسری جانب درآمد شدہ موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کے معاملے میں ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے، کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فوری ریلیف کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت آئی ٹی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے درآمد شدہ موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کی درخواست کی حمایت کی تھی، تاکہ فائیو جی موبائل فونز کی دستیابی میں آسانی ہو۔
تاہم فائیو جی سپیکٹرم نیلامی کی پالیسی ڈائریکٹو میں بھی موبائل فون ٹیکس سے متعلق کوئی واضح یقین دہانی شامل نہیں کی گئی۔
ٹیلی کام آپریٹرز کا کہنا ہے کہ فائیو جی فونز کی کمی کی وجہ سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے، اور ٹیکس میں کمی سے مارکیٹ میں طلب کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم ایف بی آر نے موقف اختیار کیا کہ فوری ٹیکس میں کمی سے مجموعی ٹیکس وصولی کے اہداف متاثر ہوں گے، اس لیے وہ موجودہ بجٹ کے دائرہ کار میں کسی تبدیلی کے حق میں نہیں۔





