امریکا کی جانب سے چابہار پورٹ پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد بھارت نے اس پورٹ سے نکلنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارت نے پابندیوں کے نافذ ہونے سے قبل ایران کو پورٹ کی ترقی کے لیے اپنی کمٹ شدہ رقم 1.2 کروڑ ڈالر ادا کر دی ہے جسے ایران اب آزادانہ طور پر پورٹ کے آپریشنز جاری رکھنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، بھارت کی اس عمل میں مزید کوئی شمولیت نہیں ہوگی۔
پابندیوں کی تجدید کے بعد بھارت پورٹس گلوبل لمیٹڈ کے بورڈ کے تمام سرکاری ڈائریکٹرز نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا اور چابہار پورٹ کی ترقی و انتظام کی ذمہ داری رکھنے والے سرکاری ادارے کی ویب سائٹ بند کر دی گئی تاکہ پورٹ سے وابستہ افراد ممکنہ امریکی پابندیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
چابہار پورٹ ایران کے سستان و بلوچستان صوبے کے جنوب مشرق میں خلیج عمان کے کنارے واقع ہے اور بھارت کے لیے افغانستان اور وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی کا ایک اہم سمندری راستہ فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی من گھڑت کہانی بے نقاب! پاکستان نے بھارتی الزامات کی سخت تردید کر دی
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا انخلاء ایران کے لیے پورٹ کے آزادانہ آپریشن کا موقع فراہم کرتا ہے جبکہ علاقائی تجارتی اور اقتصادی منصوبوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔





