وادی تیراہ کے آئی ڈی پیز کے فنڈز پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ کے لیے مختص کیے جانے کا دعویٰ

وادی تیراہ کے آئی ڈی پیز کے فنڈز پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ کے لیے مختص کیے جانے کا دعویٰ

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے خیبر پختونخوا حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا ایک بدقسمت صوبہ ہے جہاں گزشتہ 13 سال سے یہی لوگ حکومت میں ہیں اور اگر مرکز میں ان کی حکومت کا وقت بھی شامل کیا جائے تو انہیں 17 سال ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں جانا کس سمت ہے۔

اختیار ولی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دوستوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ صوبے کے طول و عرض میں مختلف نوعیت کے جلسے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ آج قوم کے سامنے یہ بات رکھنا چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے خزانے کو بڑی بے دردی کے ساتھ لوٹا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر کے مطابق گزشتہ عرصے میں آئی ڈی پیز کے لیے پانچ، چھ یا سات ارب روپے مختص کیے گئے تھے، خاص طور پر باجوڑ کے لیے، مگر یہ رقم وہاں آئی ڈی پیز میں تقسیم نہیں کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ پیسے اس موومنٹ پر خرچ کیے گئے جسے پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ کہتی ہے، جبکہ اختیار ولی نے اسے فوڈ اسٹریٹ موومنٹ قرار دیا۔

اختیار ولی نے مزید کہا کہ وادی تیراہ میں آپریشن اور کلین اپ کے باعث متاثرہ افراد کے لیے چار سے ساڑھے چار ارب روپے مختص کیے گئے تھے مگر اس میں سے ڈیڑھ ارب روپے تاحال تقسیم نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق باقی لگ بھگ تین ارب روپے خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی اسٹریٹ موومنٹ یا فوڈ اسٹریٹ موومنٹ کے لیے مختص کر دیے ہیں اور وہی رقم وہاں خرچ کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top