کریمنل جسٹس سسٹم پر فیصلہ، پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو غیرقانونی مداخلت سے روک دیا

کریمنل جسٹس سسٹم پر فیصلہ، پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو غیرقانونی مداخلت سے روک دیا

کامران علی شاہ
پشاور ہائیکورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں خامیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے بعد 149 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں صوبائی حکومت کو مؤثر پولیسنگ کےلیے اقدامات کرنے اور غیر قانونی مداخلت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے کریمنل جسٹس سسٹم سے متعلق پراونشل کریمنل جوڈیشل کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

درخواستیں ایڈووکیٹ شبیر حسین گیگیانی اور آصف اللہ کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جس پرچیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سفارشات اور عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ماتحت عدالتوں میں 85 فیصد مقدمات زیر التوا ہیں۔ ان مقدمات کے بروقت فیصلے کے لیے ڈسٹرکٹ سطح پر اصلاحات کرنے، ججز کی کمی پوری کرنے اور غیر ضروری التوا روکنے کے لیے سیکشن 344 سی آر پی سی کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے ڈی این اے اور سائبر کرائم ڈیجیٹل ماہرین کو شامل کرنے کے لیے سیکشن 510 سی آر پی سی میں ترمیم کا حکم دیا جبکہ سیکشن 182 پی پی سی، 674 اور 250 سی آر پی سی میں بھی ترامیم کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

فیصلے میں صوبائی حکومت کو مؤثر پولیسنگ کے لیے اقدامات کرنے اور غیر قانونی مداخلت سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی پراسیکیوٹرز اور تمام اضلاع کے تفتیشی افسران کو جدید اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ضروریات اور مطالبات سے متعلق رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کریں۔

عدالت نے غیر ضروری ایف آئی آرز درج کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی حکم دیا ہے جبکہ تمام تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے پنجاب فرانزک لیب کے طرز پر فرانزک لیب قائم کرنے اور اس کی سہولت تمام ڈویژنز تک فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ فیصلے میں فرانزک رپورٹ کی بنیاد پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزا دس سال سے زیادہ کرنے کی بھی ہدایت شامل ہے۔

فیصلے میں ڈی آئی جی سیکیورٹی کو جوڈیشل افسران کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ پروبیشن آفیسرز کو جیلوں کے دورے کر کے فٹ کیسز کی نشاندہی اور ماہانہ رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ مقدمہ درج کرنے والے پولیس افسر کے لیے قانون سے واقفیت لازمی ہونی چاہیے، جبکہ جوڈیشل اور کیس مینجمنٹ کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے آئی ٹی اور اے آئی کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔

فیصلے میں جوڈیشری، پولیس، پراسیکوشن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیتی اقدامات، گواہوں کے تحفظ کے لیے وٹنس پروٹیکشن بورڈ اور یونٹس کو فعال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

عدالت نے پراسیکوشن ڈیپارٹمنٹ کو تین ماہ کے اندر تفتیشی ہیڈ بک کا اردو ترجمہ مکمل کر کے تفتیشی افسران کو فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

Scroll to Top