متحدہ عرب امارات کے آسمان آج جنگی طیاروں سے گونجیں گے

دبئی : متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں آج ایک خصوصی فضائی مارچ منعقد کیا جا رہا ہے، جو چار سال قبل حوثیوں کے حملے کی یاد میں ترتیب دیا گیا ہے۔

یہ حملہ متحدہ عرب امارات کو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنانے والا واقعہ تھا، جس میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں ایک پاکستانی محنت کش، معمور خان بھی شامل تھے۔

فضائی مارچ میں جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر حصہ لیں گے اور پورے ملک میں پرواز کریں گے۔ مارچ کا آغاز ابوظبی سے ہوگا اور یہ متحدہ عرب امارات کی تمام ریاستوں سے گزرے گا۔

دبئی کے ولی عہد، نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ دفاع شیخ حمدان بن محمد بن رشید آل مکتوم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہفتے کے دن صبح 11 بجے اماراتی قومی ترانے کی آواز پر یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

اس فضائی مارچ کا مقصد نہ صرف اس حملے کی یاد تازہ کرنا ہے بلکہ قومی اتحاد اور یکجہتی کو بھی فروغ دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اب ڈرائیور کی ضرورت نہیں، دبئی نے خودکار ٹیکسیوں کے لیے پرمٹ جاری کر دیا

جبکہ دوسری جانب دبئی نے اسمارٹ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اور نمایاں سنگِ میل عبور کرتے ہوئے بغیر ڈرائیور ٹیکسیوں کے لیے پہلا کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر قائم کر دیا ہے۔

یہ جدید مرکز چینی ٹیکنالوجی کمپنی بائیڈو اپولو گو کا چین سے باہر اپنی نوعیت کا پہلا آپریشنل مرکز ہے جو مصنوعی ذہانت اور جدید شہری نقل و حمل میں دبئی کی عالمی قیادت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور بورڈ کے چیئرمین مطر الطائر اور بائیڈو کے کارپوریٹ نائب صدر یون پینگ وانگ نے جمعرات کے روز دبئی سائنس پارک میں قائم دو ہزار مربع میٹر پر مشتمل اس مرکز کا افتتاح کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کمرشل بنیادوں پر خودکار ٹیکسی سروسز کا آغاز 2026 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے جبکہ مرحلہ وار طور پر گاڑیوں کی تعداد بڑھا کر ایک ہزار تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔

یہ مرکز خودکار گاڑیوں کی مکمل نگرانی اور آپریشن کے لیے قائم کیا گیا ہے جہاں کمانڈ اینڈ کنٹرول روم، سمیولیشن اور تربیتی ہالز، آپریشن اور مینٹیننس سہولیات موجود ہیں، یہاں گاڑیوں کی سیفٹی جانچ، سافٹ ویئر اپڈیٹس، چارجنگ، مرمت اور ہنگامی ردعمل جیسے تمام امور انجام دیے جائیں گے۔

Scroll to Top