پام بیچ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران امریکا میں کوئی بھی غیر قانونی طور پر داخل نہیں ہوا۔
پام بیچ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکا میں داخل ہونے سے مکمل طور پر روک دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے سرحدی سکیورٹی کو مؤثر بنایا جس کے نتیجے میں غیر قانونی امیگریشن کا مکمل خاتمہ ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی انتظامیہ کی بڑی کامیابیوں میں شامل ہے۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر عالمی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاک بھارت سمیت مجموعی طور پر آٹھ جنگیں رکوائیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی کوششوں کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
انہوں نے پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ان کی مداخلت سے کروڑوں جانیں بچیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ان کے بارے میں کہے گئے الفاظ ان کے لیے باعثِ اعزاز ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کو عالمی سطح پر امن کے حوالے سے ان کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں پر بین الاقوامی حلقوں کی جانب سے مختلف آرا سامنے آنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ ایران کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں، ترجمان وائٹ ہاوس
یاد رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے تمام آپشنز کھلے ہیں اور اس معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران کیرولین لیوٹ نے واضح کیا کہ اگر ایران میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور قتل و غارت جاری رہیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران میں اب تک 800 سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے، جو کہ اس معاملے پر امریکی حکومت کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔
کیرولین لیوٹ نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے گرین لینڈ میں ممکنہ فوجی تعیناتی صدر ٹرمپ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوگی اور امریکہ کی جانب سے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ جاری مذاکرات اسی انداز میں جاری رہیں گے۔
ترجمان نے بتایا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ سے متعلق حالیہ اجلاس مثبت نتائج کے حامل رہے اور صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے معاملے میں تمام متبادل آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔





