مذاکرات کا مینڈیٹ اب بھی محمود اچکزئی کے پاس،سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملک میں نئے چارٹر کی ضرورت پر زور دیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کے حوالے سے ابھی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، اور مذاکرات کا مینڈیٹ اب بھی محمود خان اچکزئی کے پاس ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی ایک نیک شگون ہے، اور یہ تعیناتی پہلے ہی ہو جانی چاہیے تھی، لیکن دیر آئے درست آئے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کی جمہوریت کے لیے کی گئی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی سمیت یہ کوششیں جماعت کے مقصد کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
اسد قیصر نے کہا کہ پارلیمنٹ اب مکمل ہو چکی ہے اور اپوزیشن لیڈر کے بغیر پارلیمنٹ مکمل نہیں تھی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک میں نئے چارٹر کی ضرورت ہے، جس سے تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بات چیت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی جو بہتر سمجھیں گے، وہ کریں گے اور مذاکرات کا مینڈیٹ ان ہی کے پاس برقرار ہے۔ اسد قیصر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پی ٹی آئی ایک آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن کی خواہاں ہے، جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قابل قبول ہو۔
سابق اسپیکر نے عوام کے لیے پیغام دیا کہ ملک کا منتخب وزیر اعظم جیل میں ہے، اور عوام کو اپنے حق کے لیے آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے نکلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین و قانون کی بحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی اور عوام کے حقوق کے لیے کھڑی رہے گی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی مذاکرات اور پارلیمانی سرگرمیاں جاری ہیں، اور پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر تمام حلقے نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ملک میں نئے چارٹر اور مثبت گفت و شنید سے سیاسی عدم استحکام کم اور عوامی اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔





