ہیروئن اسمگلنگ کا بھانڈا پھوٹا، 21 سال قید پانیوالی سدرہ نوشین کی سیاسی حقیقت بے نقاب، تعلق کس جماعت سے نکلا؟جانئے

ہیروئن اسمگلنگ کا بھانڈا پھوٹا، 21 سال قید پانیوالی سدرہ نوشین کی سیاسی حقیقت بے نقاب، تعلق کس جماعت سے نکلا؟جانئے

لندن میں 21 سال قید پانے والی سدرہ نوشین کا تہلکہ خیز انکشاف، ہیروئن اسمگلنگ کے الزام میں پاکستان کی طاقتور جماعت تحریک انصاف سے سیاسی وابستگی، 85 کلو ہیروئن کی برآمدگی۔

تفصیلات کے مطابق ہیروئن کی اسمگلنگ کے الزام میں لندن کی عدالت کی جانب سے 21 سال قید پانے والی سدرہ نوشین کی سیاسی وابستگی کے راز سامنے آ گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ سدرہ نوشین پاکستان کی جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سرگرم رکن رہی ہیں۔

برطانوی عدالت کے فیصلے کے مطابق، سدرہ نوشین سے برطانیہ میں مجموعی طور پر 85 کلو ہیروئن برآمد ہوئی، جس پر انہیں 21 سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے بتایا کہ ملزمہ ہیروئن کو کپڑوں میں چھپا کر اپنے گھر برڈفورڈ لے جاتی اور وہاں سے ہر پیکٹ کو 1 کلو کے حساب سے تیار کر کے مارکیٹ میں خفیہ طریقے سے فروخت کرتی تھی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز کے مطابق، سدرہ نوشین کو عمران خان کی حمایت میں پی ٹی آئی کے جلسے، جلوس اور مظاہروں میں ہمیشہ دیکھا گیا، اور وہ ان تقریبات کا باقاعدہ انتظام بھی کرتی رہیں، حتیٰ کہ فنڈز بھی فراہم کرتی تھیں۔

سدرہ نوشین کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی عوام میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کا پاسپورٹ عالمی سطح پر ڈی ویلیو کیوں ہو رہا ہے، اور بیرونِ ملک ویزے حاصل کرنا کیوں مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کے کارکنان کی بین الاقوامی سطح پر ایسی سرگرمیوں نے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سدرہ نوشین ایک منظم جرائم پیشہ گروپ کی رکن تھی، اور اس کے برطانیہ کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی روابط اور ہیروئن فروخت کے ثبوت ملے ہیں۔ واضح رہے کہ سدرہ نوشین کو 23 دسمبر کو سزا سنائی گئی تھی۔

دوسری جانب پاکستان میں بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر ہیروئن اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں، جو اس کیس کی حساسیت اور عالمی سطح پر پاکستانی سیاست میں زیرِ بحث کردار کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ ملکی سیاست میں بھی سسپینس اور تنازعے کی نئی لہر پیدا کر رہا ہے۔

Scroll to Top