آپریشن کس کے کہنے پر؟عوام کا وزیراعلیٰ سے دوٹوک سوال، بے بس ہیں تو کرسی چھوڑ دیں

آپریشن کس کے کہنے پر؟عوام کا وزیراعلیٰ سے دوٹوک سوال، بے بس ہیں تو کرسی چھوڑ دیں

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں بالخصوص تیراہ میں جاری آپریشن پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیانات کے خلاف عوامی ردعمل میں شدت آتی جا رہی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے رہائشیوں نے پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پر سخت تنقید کی اور کہا ہے کہ وہ عوام سے جھوٹ بولنا بند کریں، اگر آپریشن ان کے کہنے پر نہیں ہو رہا اور وہ اتنے بے بس ہیں تو انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ واقعی اس آپریشن کے حامی نہیں ہیں تو انہیں کھل کر اس کی مخالفت کرنی چاہیے، اور اگر مخالفت کے باوجود کچھ نہیں ہو رہا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام معاملات ان کی رضامندی سے چل رہے ہیں۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب عوام کو گمراہ کرنے اور بے وقوف بنانے کی کوشش ہے، جو اب قابلِ قبول نہیں۔

پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ایک شہری نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ صاف الفاظ میں اعلان کریں کہ وہ اس آپریشن کے خلاف ہیں اور اس پر رضامند نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اختیارات ہونے کے باوجود وہ انہیں استعمال نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی حکومت ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر عوام کو صرف جھوٹ اور پروپیگنڈا دیا جا رہا ہے۔

ایک اور شہری نے تیراہ میں جاری آپریشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ آپریشن ان کی وجہ سے نہیں ہو رہا، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس آپریشن سے غریب اور بے گناہ عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کو واقعی علم نہیں یا اختیار نہیں تو انہیں اس کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ وزیراعلیٰ کا بنیادی فرض ہے کہ وہ متاثرہ عوام کا حال پوچھیں، ان کے مسائل سنیں اور انہیں انصاف فراہم کریں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ خود متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور دیکھیں کہ غریب عوام کن حالات سے گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپریشن سے ان کا کوئی تعلق نہیں تو پھر انہیں فوراً مستعفی ہو جانا چاہیے، کیونکہ وزیراعلیٰ ہونا صرف بیانات دینے کا نام نہیں بلکہ عوام کے لیے فیصلے کرنے کا اختیار بھی اسی عہدے سے جڑا ہوتا ہے۔
پختون ڈیجیٹل سے گفتگو میں ایک شہری نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو دوروں اور سیاسی مصروفیات سے فرصت ملے تو وہ غریب عوام کے مسائل پر بھی توجہ دیں۔ مہنگائی بے قابو ہو چکی ہے، عوام پہلے ہی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں، اور ہر آنے والی حکومت صرف وعدے کرتی ہے، عملی طور پر کوئی انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔

ایک اور شہری نے کہا کہ وزیراعلیٰ بار بار یہ دہرا رہے ہیں کہ آپریشن سے ان کا کوئی تعلق نہیں، تو پھر انہیں عہدے سے بھی الگ ہو جانا چاہیے۔ عوام اب باشعور ہو چکی ہے اور مزید دھوکے برداشت نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ صوبے میں ہونے والا اتنا بڑا آپریشن وزیراعلیٰ کے اختیار سے باہر ہو۔ وزیراعلیٰ کے بیانات عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں۔

شہریوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ دورے تو کر سکتے ہیں لیکن عوام کے لیے عملی اقدامات نہیں کر سکتے تو انہیں اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں، اور بہتر یہی ہے کہ وہ فوری استعفیٰ دے دیں۔

Scroll to Top