ہری پور ہزارہ کی عوام نے تحریک انصاف کو مسترد کردیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا فورہ چوک میں منعقدہ جلسہ ناکام ہوگیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا ضلع ایبٹ آباد کے فوارہ چوک میں منعقدہ جلسہ میں لوگوں کی کم تعداد میں شرکت نے پی ٹی آئی کی مقبولیت کی قلعی کھول کر رکھ دی ۔
مقامی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کے استقبال کے لیے کارکن اور شہری بہت کم تعداد میں موجود تھے، جس کی وجہ سے تقریب کے دوران سہیل آفریدی کی تقریر بھی مختصر رہی۔ عوامی شرکت کی کمی سے جلسے کا ماحول غیر فعال رہا اور سیاسی مبصرین نے اسے پارٹی کی مقبولیت میں کمی کی علامت قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ حالیہ سیاسی سرگرمیوں کے باوجود پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے اور عوامی حمایت محدود ہو گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صوبے کے انتظامی امور پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
قبل ازیںپشاور موٹر وے پلازہ پر وزیر اعلیٰ کا استقبال کرنے کے لیے صرف 30 کارکن اور 10 سے 12 گاڑیاں موجود تھیں، جبکہ حویلیاں پہنچنے پر درجنوں کے بجائے 100 سے کم افراد نے وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہزار کے عوام نے پی ٹی آئی اور اس کے قائدین کو مسترد کیا ہے۔
یہ صورتحال کراچی میں پی ٹی آئی کی پچھلی ریلی کی ناکامی سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں بھی صرف محدود تعداد میں کارکن اور حمایتی شریک ہوئے تھے۔ اس دوران کراچی میں کچھ عناصر نے پولیس اور میڈیا پر پتھراؤ بھی کیا، جس سے شہریوں کی مشکلات بڑھیں۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ریلی میں دیر سے پہنچے، مختصر تقریر کے بعد روانہ ہو گئے جس سے پارٹی کے حامی مایوس ہوئے۔
ہزارہ میں آج کی ریلی اور کراچی کی پچھلی ریلی دونوں یہ ثابت کرتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔
پارٹی اور سینئر قائدین کارکنوں اور حمایتیوں کو متحرک کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر ریلی کے بڑے ہونے کے دعوے عام طور پر حقیقت میں ناکامی میں بدل جاتے ہیں۔





