کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ شاپنگ پلازہ میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور بیس زخمی ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت 30 سالہ عامر، 55 سالہ فراز اور 40 سالہ آصف کے ناموں سے ہوئی ہے۔ زخمیوں میں سے 11 افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے اور وہ سول اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ابتدائی طور پر آگ شاپنگ پلازہ کے میزنائن فلور پر لگی جس سے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور کی دکانیں بھی متاثر ہوئیں، شاپنگ پلازہ گراؤنڈ اور میزنائن پلس دو فلور پر مشتمل ہے۔
صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر قاسم کے مطابق تقریباً اسی سے سو افراد عمارت میں موجود ہو سکتے تھے، انہوں نے کہا کہ دھائی سو لوگوں کو خود نکالا گیا اور ہمارے ساتھ کام کرنے والے 10 سے 12 افراد سے رابطہ نہیں ہو رہا۔
تنویر قاسم کا کہنا ہے کہ فائر بریگیڈ حکام کے پاس اکثر پانی یا ڈیزل ختم ہو جاتا ہے اور وہ مارکیٹ کے اندر جانے کے لیے ضروری آلات نہیں رکھتے۔
ریسکیو اہلکاروں کے پاس ماسک اور دیگر حفاظتی سہولیات بھی موجود نہیں تھیں اور فائربریگیڈ کی گاڑی ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچی۔
پلازہ کے صدر کے مطابق مارکیٹ میں پھنسے لوگ فون کال کے ذریعے مدد مانگ رہے تھے اور ساڑھے 10 بجے خریداروں کا رش کم ہو گیا تھا لیکن ہر دس منٹ بعد فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہو رہا تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، شاپنگ پلازے میں خوفناک آگ لگ گئی، 5 افراد جاں بحق، ایمرجنسی ناٖفذ
انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا اور وزیراعلیٰ سندھ و میئر کراچی کو ہدایت کی کہ آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں اور متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
صدر گل پلازہ ایسوسی ایشن نے کہا کہ اتنی بڑی آگ لگی لیکن وزیر اعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کا کوئی نہیں ہے، انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ عمارت سے لوگ فوری طور پر نکالے جائیں۔





