ٹی 20 ورلڈکپ: بنگلا دیش کے بھارت نہ جانے کے فیصلے پر آئی سی سی کا ردعمل سامنے آگیا

اسلام آباد: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلا دیش کے بھارت میں کھیلنے سے انکار کی صورت میں آئی سی سی رینکنگ کی بنیاد پر دوسری ٹیم کو شامل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق بنگلا دیش کی شرکت یا عدم شرکت کا حتمی فیصلہ 21 جنوری کو کیا جائے گا، جبکہ آئی سی سی نے بی سی بی کو ڈھاکا میں ہونے والے مذاکرات میں اس حوالے سے ڈیڈ لائن سے آگاہ کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش بھارت نہ جانے کے مؤقف پر بدستور قائم ہے اور آئی سی سی نے بنگلا دیش کی گروپ تبدیل کرنے کی درخواست قبول نہیں کی۔

بنگلا دیش نے گروپ بی میں شامل آئرلینڈ کے ساتھ گروپ تبدیل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، جسے آئی سی سی نے مسترد کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق آئی سی سی نے بنگلا دیش کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت میں کسی بھی ٹیم کو براہِ راست کوئی سکیورٹی خطرہ نہیں ہے۔

20 ٹیموں کو بھیجے گئے سکیورٹی مراسلے میں کہا گیا کہ بھارت میں سکیورٹی انتظامات مکمل ہیں۔ تاہم، آئی سی سی اب بھی بنگلا دیش کے حتمی جواب کا انتظار کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بنگلا دیش نے بھارت نہ جانے کا فیصلہ برقرار رکھا تو آئی سی سی رینکنگ کی بنیاد پر اسکات لینڈ کی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈکپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلا دیش نے بھارت نہ جانے کا فیصلہ حکومت کی مشاورت اور ہدایات کے بعد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جرمنی میں تعلیم کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کے لیے خوشخبری

اس فیصلے کے پیچھے سکیورٹی خدشات ہیں، جو آئی پی ایل میں بنگلا دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کے بھارت میں کھیلنے کے دوران پیش آنے والے واقعے سے پیدا ہوئے۔

مستفیض الرحمان کو بھارتی انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی ٹیم سے نکالا گیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان نے بنگلا دیش کے بھارت نہ جانے کے فیصلے پر مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے کہا ہے کہ بنگلا دیش کی معقول وجوہات ہیں اور ان پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

اگر بنگلا دیش کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پاکستان بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اپنی شرکت کے فیصلے کا جائزہ لے سکتا ہے۔

Scroll to Top