پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک اس حوالے سے مجموعی اعداد و شمار منظر عام پر آ گئے ہیں۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق اب تک 2 لاکھ 75 ہزار 183 افغان شہریوں کو ان کے آبائی وطن روانہ کیا جا چکا ہے، جبکہ یہ عمل تین مختلف فیزز میں مکمل کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے فیز میں یکم نومبر 2023 سے 14 فروری 2025 تک 82 ہزار 916 افغان شہری وطن واپس گئے۔ دوسرے فیز میں 15 فروری 2025 سے 31 اگست 2025 تک 44 ہزار 584 افغان شہریوں کو واپس بھیجا گیا۔
تیسرے فیز میں یکم ستمبر 2025 سے اب تک افغان شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے، اور اس دوران 1 لاکھ 47 ہزار 683 افغانیوں کو وطن بھیجا جا چکا ہے۔ چمن بارڈر سے رضاکارانہ طور پر 1 لاکھ 44 ہزار 253 افغان شہری واپس گئے، جبکہ سندھ بھر کے مختلف ٹرانزٹ پوائنٹس سے مزید 3 ہزار 430 افغان شہری واپس روانہ ہوئے۔
کراچی سے مجموعی طور پر 3 ہزار 327 افغان شہری وطن واپس لوٹے، جن میں 2 ہزار 364 غیر قانونی طور پر مقیم افغانی، 136 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز، اور 827 پروف آف ریذیڈنس رکھنے والے افغانی شامل ہیں۔ حیدرآباد سے 85، شہید بے نظیر آباد سے 7، سکھر سے 9، اور لاڑکانہ سے 2 غیر قانونی افغان شہری واپس وطن پہنچے۔
فیز تھری کے دوران جی سی ٹی کیمپ کراچی سے 3 ہزار 394 اور جیکب آباد کیمپ سے 3 ہزار 430 افغان شہریوں کا انخلا ممکن ہوا۔ تاہم سندھ میں باقی افغان شہریوں کی حتمی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔ آزاد ذرائع کے مطابق یہاں تقریبا 10 لاکھ سے زائد افغان شہری مقیم ہیں، جبکہ سپیشل برانچ کے مطابق یہ تعداد 3 سے 5 لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی اور صوبائی ادارے، جن میں سپیشل برانچ، سپریم حساس ادارہ اور وفاقی حساس ادارہ شامل ہیں، مشترکہ طور پر کارروائی کر رہے ہیں تاکہ باقی افغان شہریوں کی شناخت اور وطن واپسی ممکن بنائی جا سکے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اطلاع پر کارروائیاں جاری ہیں اور تمام افغان شہریوں کو واپس بھیجا جائے گا۔
یہ عمل نہ صرف افغان شہریوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بناتا ہے بلکہ پاکستان میں رہائش پذیر غیر قانونی مہاجرین کے معاملات کو بھی قانونی دائرہ میں لانے کی ایک بڑی کوشش تصور کی جا رہی ہے۔





