سری لنکا نے ایک منفرد ارغوانی یاقوت کی دریافت کا اعلان کیا ہے جس کی قدر عالمی سطح پر بہت زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
العربیہ کے مطابق اس قیمتی پتھر کی تخمینہ مالیت تقریباً 400 ملین ڈالر ہے۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق، اس یاقوت کو “الطاہرہ زمینی ستارہ” کا نام دیا گیا ہے اور اس کا وزن 3563 قیراط ہے۔
دارالحکومت کولمبو میں اس کی نمائش کی گئی، جہاں چھ شعاعوں پر مشتمل ستارہ نما ڈیزائن نے ماہرین کو حیران کر دیا۔ اسی منفرد ساخت کی وجہ سے یہ دنیا کے نایاب ترین یاقوتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
پتھروں کے ماہر اشان اماراسنگھ نے اخبار “میرر” کو بتایا کہ یہ اب تک کا سب سے بڑا یاقوت ہے جسے باضابطہ طور پر دستاویزی شکل میں محفوظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس کی شاندار ستارہ نما شکل اور بے مثال خوبصورتی کو بھی سراہا۔
یہ یاقوت سنہ 2023ء میں رتنابورا گاؤں کے قریب دریافت ہوا، جو قیمتی پتھروں کی عالمی سطح پر مشہور پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے۔ ابتدا میں اسے دیگر قیمتی پتھروں کے ساتھ خریدا گیا تھا، لیکن اصل قیمت کا اندازہ مالکان کو دو سال بعد ہوا۔ بعد ازاں اسے باقاعدہ رجسٹر کرایا گیا اور دو خصوصی لیبارٹریوں سے اس کی تصدیق بھی کروائی گئی۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اس سری لنکن یاقوت کی موجودہ قیمت تقریباً 400 ملین ڈالر ہے، جو اسے اب تک دریافت ہونے والے سب سے مہنگے یاقوتوں میں شامل کرتی ہے۔
سری لنکا اپنی نایاب یاقوتی ذخائر کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، اور یہ رنگ، شفافیت اور قدرتی چمک کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے۔





