مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے سے ماہِ شعبان المعظم کا چاند نظر آنے کی مستند شہادت موصول نہیں ہوئی جس کے باعث یکم شعبان بدھ 21 جنوری کو ہوگی۔
یہ اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا سید عبد الخبیر آزاد کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اجلاس میں وزارتِ مذہبی امور کے ڈائریکٹر رابطہ حافظ عبدالقدوس، ڈاکٹر شاہد الرحمن مارتھ اور نصیرالدین نے انتظامی اور رابطہ امور انجام دیے۔
اجلاس کے دوران ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں اور اطلاعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاہم کسی مقام سے بھی قابلِ قبول شہادت سامنے نہیں آ سکی۔ فنی معاؤنت کےلیے مختلف سائنسی اداروں کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے۔
محکمہ موسمیات پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر حسن علی بیگ، سپارکو سے شوکت اللہ خان اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی سے جوائنٹ سیکریٹری زین العابدین نے سائنسی اور تکنیکی پہلوؤں پر بریفنگ دی۔
اسی دوران ملک بھر میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی اپنے اپنے ہیڈکوارٹرز لاہور، کوئٹہ، پشاور اور کراچی میں منعقد ہوئے، جہاں مقامی سطح پر چاند دیکھنے کی کوششیں کی گئیں اور رپورٹس مرکزی کمیٹی کو ارسال کی گئیں۔
مولانا سید عبد الخبیر آزاد نے بتایا کہ آج ملک کے بیشتر حصوں میں مطلع ابر آلود رہا جبکہ چند علاقوں میں موسم صاف بھی تھا تاہم اس کے باوجود کہیں سے بھی چاند نظر آنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
انہوں نے واضح کیا کہ شریعت اور ضابطے کے مطابق معتبر شہادت کے بغیر نئے قمری مہینے کے آغاز کا اعلان ممکن نہیں، اسی لیے تمام رپورٹس اور دستیاب معلومات کی روشنی میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ماہِ شعبان کا آغاز بدھ 21 جنوری سے ہوگا۔
ماہِ شعبان کے آغاز کے ساتھ ہی رمضان المبارک کی تیاریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے گا، جس کے باعث یہ اعلان عوامی سطح پر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔





