جے یو آئی کی رکنِ صوبائی اسمبلی ریحانہ اسماعیل نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایک مذمتی قرارداد جمع کرا دی ہے جس میں یونیورسٹی آف پشاور میں فیشن شو کے انعقاد پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور آئینِ پاکستان کے مطابق حکومت اور تمام ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی اقدار، تہذیب اور معاشرتی روایات کے فروغ کو یقینی بنائیں۔ اس ضمن میں تعلیمی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے، جہاں نوجوان نسل کی اخلاقی، دینی اور سماجی تربیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
قرارداد میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ حالیہ دنوں یونیورسٹی آف پشاور میں ایک فیشن شو منعقد کیا گیا جس میں طلبہ و طالبات کو ایسی سرگرمیوں میں شامل کیا گیا جو مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے منافی قرار دی گئیں۔
قرارداد کے متن کے مطابق اس تقریب میں رقص و موسیقی اور غیر اخلاقی ماحول پیدا ہوا جس سے تعلیمی ماحول متاثر ہوا اور نوجوانوں کو تعلیم کے اصل مقصد سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور فیشن شو کے انعقاد کے ذمہ دار انتظامی افسران اور دیگر ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی غیر اخلاقی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اسلامی اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے واضح پالیسی تشکیل دی جائے اور ایک مؤثر مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔





