گلگت بلتستان میں زلزلے کے جھٹکے، پہاڑ لرز گئے، امدادی سرگرمیاں جاری

گلگت بلتستان اور گرد و نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئےجس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور کئی افراد زخمی ہوگئے۔

پیر کی دوپہرآنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی، اور اس کا مرکز کریم آباد سے تقریباً 49 کلومیٹر دور تھا۔

سب سے شدید واقعہ اشکومن میں بدصوات جھیل کے قریب پیش آیا، جہاں پہاڑ سے گرتے پتھروں کی زد میں آکر ایک موٹر سائیکل سوار موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ ایک اور شخص شدید زخمی ہوا جسے امیت اسپتال منتقل کیا گیا۔

وادی چپورسن (ہنزہ) میں بھی زلزلے سے تباہی ہوئی، جہاں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ زودخون گاؤں میں بھائی اور بہن زخمی ہوئے اور طبی ذرائع کے مطابق بچوں کے سر پر چوٹیں آئی ہیں، جنہیں سی ٹی اسکین کے لیے ریفر کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں 40 سے زائد مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

متاثرہ افراد منفی 20 ڈگری کی سردی میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور سڑکوں کے بند ہونے کی وجہ سے انہیں علی آباد یا گلگت منتقل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

مقامی آبادی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زخمی بچوں کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر ہیلی کاپٹر خدمات فراہم کی جائیں۔

زلزلے کے بعد شاہراہِ قراقرم کے مختلف حصوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس کی وجہ سے آمد و رفت معطل ہو گئی ہے اور وادی چپورسن کا زمینی رابطہ بھی مکمل طور پر کٹ گیا ہے۔

محکمہ ورکس ہنزہ کے مطابق سوست اور پسو سے بھاری مشینری روانہ کر دی گئی ہے تاکہ چپورسن روڈ کو دوبارہ کھولا جا سکے۔

پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے گرد و غبار کے بادل چھائے رہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات آئیں۔ محکمہ صحت ہنزہ نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے سوست سے پیرامیڈیکل اسٹاف کو متحرک کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ ہیں اور متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ پہاڑی راستوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے مقامات پر سفر سے گریز کریں اور ندی نالوں کے قریب نہ جائیں۔ ہنگامی صورت حال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کیا جائے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی اور بند راستوں کو جلد کھولنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے پاکستان کے علاوہ چین، تاجکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

Scroll to Top