پشاور: چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے مہمند ڈیم پراجیکٹ کا دورہ کیا اور اس دوران مین ڈیم، پاور ہاؤس اور تمام دیگر اہم سائٹس پر جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔
دورے کے دوران انہیں پراجیکٹ کی تمام 10 اہم سائٹس پر ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مہمند ڈیم پراجیکٹ پر مجموعی پیش رفت 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
چیئرمین واپڈا نے اس موقع پر کہا کہ ملک میں پانی اور سستی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مہمند ڈیم ایک اہم منصوبہ ہے۔
انہوں نے کنٹریکٹرز کو ہدایت دی کہ وہ اہداف کے حصول کے لیے اضافی وسائل کی دستیابی یقینی بنائیں اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے نظرثانی شدہ شیڈول پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مہمند ڈیم مکمل ہونے کے بعد بجلی کی پیداوار 2028 کے اوائل میں شروع ہو جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان اور کویت کے درمیان مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے قرضہ کے دوسرے معاہدے پر بھی دستخط ہو گئے ہیں۔
وزارت اقتصادی امور میں منعقدہ تقریب میں حکومت پاکستان اور کویت فنڈ فار عرب اکنامک ڈویلپمنٹ کے درمیان 7.5 ملین کویتی دینار (تقریباً 25 ملین امریکی ڈالر) مالیت کے قرض کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے سیکرٹری وزارت اقتصادی امور محمد حمیر کریم جبکہ کویت کی جانب سے ڈپٹی ہیڈ آف مشن، سفارتخانہ ریاست کویت فہد ہشام ایچ اے ایس الدوسری نے معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں پولیس افسران کے تقرری و تبادلے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری وزارت اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے کویت حکومت اور کویت فنڈ کا پاکستان کے ترقیاتی پروگراموں کے لیے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ رعایتی فنانسنگ پاکستان اور کویت کے برادرانہ تعلقات اور دیرینہ شراکت داری کی عکاس ہے۔
محمد حمیر کریم نے توانائی، پانی اور سماجی شعبوں میں کویت فنڈ کی مالی معاونت کو سراہا، جس سے پاکستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبہ تسلی بخش انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور دوسرے قرض کی رقم سے مہمند ڈیم کی تعمیراتی سرگرمیاں مزید تیز ہوں گی، جس سے منصوبے کی بروقت تکمیل میں مدد ملے گی۔





