ٹوکیو : جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے 23 جنوری کو ایوان نمائندگان تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات کرائے جا سکیں۔
یہ اقدام وزیر اعظم تاکائیچی کے منصب سنبھالنے کے بعد پہلا عام انتخاب ہوگا، جو موجودہ ایوانِ زیریں کی مدت ختم ہونے میں دو سال سے زیادہ وقت باقی رہتے ہوئے ہو رہا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جاپانی وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ووٹنگ 8 فروری کو ہوگی، جبکہ باضابطہ انتخابی مہم 27 جنوری سے شروع ہو گی۔
تاکائیچی نے گزشتہ ہفتے اپنی حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اتحادی جماعت جاپان انوویشن پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو ایوان زیریں تحلیل کرنے کے ارادے سے آگاہ کیا تھا۔
حکمران اتحاد کے خلاف اپوزیشن نے بھی اپنی تیاری شروع کر دی ہے۔ جاپان کی آئینی جمہوری پارٹی اور کومے ئیتو پارٹی نے جمعرات کو سینٹرسٹ ریفارم الائنس بنانے پر اتفاق کیا ہے، جو آنے والے انتخابات میں سب سے بڑی اپوزیشن قوت کے طور پر سامنے آئے گا۔
تاکائیچی کے مطابق ایوان کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات کا مقصد حکومت کی پالیسیوں کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا اور ملکی سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سانس لینا مشکل ہوسکتا ہے، محکمہ موسمیات نے خطرناک سموگ الرٹ جاری کردیا
تجزیہ کاروں کے مطابق اس انتخاب میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، کیونکہ ملکی سیاسی منظرنامہ حالیہ برسوں میں متعدد چیلنجز سے دوچار رہا ہے۔
جاپان میں قبل از وقت انتخابات کا انعقاد اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وزیر اعظم تاکائیچی حکومتی ایجنڈے کو جلد سے جلد عوامی حمایت دلانے کے لیے کوشاں ہیں، اور سیاسی محاذ پر تیز رفتار حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔





