اسلام آباد: معروف تجزیہ کار و سیاسی رہنما حفیظ اللہ نیازی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے “ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان” کے بیانیے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماوں کے بعض فیصلے اور عہدوں کی تعیناتی ایسے مذاکراتی عمل کے لیے کی گئی تھی جو موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ضروری تھے، تاہم ان مذاکرات میں محدود اختیارات نے پارٹی کے بیانیے اور مقاصد کے درمیان تضاد پیدا کر دیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے عارف علوی کو لاہور طلب کیا تاکہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں حصہ لے سکیں۔
اسی طرح علی امین گنڈاپور کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ عسکری قیادت اور سیاسی رہنماوں کے درمیان مذاکرات کروا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرسٹر سیف کو بھی مشیر وزیر اعلیٰ پختونخواہ تعینات کرنے کا مقصد اسی مذاکراتی فریم ورک کے تحت تھا۔
اسی طرح اعظم سواتی اور بیرسٹر گوہر نے بھی کھلے عام ان خیالات کا اظہار کیا کہ پارٹی رہنماوں کو عسکری قیادت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات، سینیٹر زرقہ کا موقف سامنے آ گیا
نیازی نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ رہنما مذاکرات کے لیے ہی عہدوں پر تعینات کیے گئے تھے تو پھر انہیں محدود اختیارات دینے کا کیا فائدہ تھا؟
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے بیانیے اور عملی فیصلوں میں یہ تضاد واضح طور پر نظر آ رہا ہے، جس کی وجہ سے پارٹی کی عوامی ساکھ اور بیانیہ متاثر ہو رہا ہے۔





