مزدوری کریں یا لائن میں لگیں؟ سی این جی بندش نے خیبرپختونخوا کے شہریوں کو مشکل میں ڈال دیا

خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مردان، ایبٹ آباد اور کرک میں سی این جی اسٹیشنز بند پڑے ہیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ 16، 16 گھنٹے کی طویل بندش نے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے مسائل پیدا کر دیے ہیں بلکہ گھریلو صارفین کے لیے بھی گیس کی دستیابی مشکل ہو گئی ہے۔ شہریوں کے مطابق نہ گھروں میں گیس میسر ہے اور نہ ہی سی این جی اسٹیشنز پر ایندھن کی فراہمی ہو رہی ہے، جس کے باعث روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

شہریوں نے شکایت کی کہ انہیں پورا دن سی این جی اسٹیشنز پر لائنوں میں کھڑے ہو کر گزارنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے مزدوری اور دیگر کام کاج بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ “پورا دن لائن میں کھڑے رہیں تو مزدوری کس وقت کریں؟”

سی این جی صارفین اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور طویل بندش کے مسئلے کا فوری حل نکالا جائے، تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سی این جی کی بندش کا مسئلہ برقرار رہا تو نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہوگی بلکہ مہنگائی اور بیروزگاری میں بھی مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top