خیبر پختونخوا میں سرحد پار خطرہ! شیخ وقاص اکرم نے سہیل آفریدی کے بیان کی تردید کرتے ہوئے افغانستان سے دراندازی اور دہشت گردوں کی آمد کا انکشاف کر دیا
تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں افغانستان کی جانب سے دراندازی اور دہشت گردوں کی آمد کے مسئلے پر ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ رہنما پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے حال ہی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا افغانستان کے ساتھ سرحد ہونے کے باعث وہاں سے دراندازی ہوتی ہے اور دہشت گرد تشکیلوں کی صورت میں صوبے میں داخل ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، تاہم اس دعوے کی تصدیق کے لیے ثبوت فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر حصے بھی افغانستان کی سرحد سے جڑے ہیں، لیکن وہاں سے کسی قسم کی شکایات موصول نہیں ہو رہی ہیں۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے یہ صوبہ افغانستان کی سرحد کے بالکل قریب واقع ہے، اس لیے یہاں دراندازی اور دہشت گردوں کی آمد معمول کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد افغانستان سے تشکیلوں کی شکل میں آتے ہیں، جس کی وجہ سے صوبے کو نقصان پہنچتا ہے اور حفاظتی اقدامات میں اضافہ ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ صورتحال صوبے کی سکیورٹی کے لیے ایک چیلنج ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف شہری محفوظ رہیں بلکہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔
ماہرین سکیورٹی کے مطابق خیبرپختونخوا کی جغرافیائی حیثیت اور افغانستان کے ساتھ متصل سرحد اس خطے میں دہشت گردی کے خطرات کو بڑھاتی ہے، اور اس کے مؤثر تدارک کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مربوط سکیورٹی تعاون ناگزیر ہے۔





