ہسپتال کھلے مگر ڈاکٹر غائب! خیبر پختونخوا کے صحت کا نظام ہچکولے کھانے لگا، 9 ہسپتال مقررہ حد سے نیچے

ہسپتال کھلے مگر ڈاکٹر غائب! خیبر پختونخوا کے صحت کا نظام ہچکولے کھانے لگا، 9 ہسپتال مقررہ حد سے نیچے

خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی غیر حاضری کے مسئلے نے صحت کے نظام کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے۔ صوبائی میڈیکل مانیٹرنگ یونٹ (آئی ایم یو) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، دسمبر 2025ء میں صوبے کے سرکاری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں اور سب ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں میڈیکل افسروں کی مجموعی حاضری صرف 83 فیصد رہی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 2 فیصد کم ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے کے 9 ہسپتال میں میڈیکل افسران کی حاضری مقررہ معیار 80 فیصد سے بھی کم رہی، جبکہ 14 ہسپتالوں میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں حاضری میں مزید کمی دیکھنے کو ملی۔ بعض اہم اضلاع میں حاضری خطرناک حد تک کم ہو کر 60 فیصد سے نیچے جا پہنچی ہے، جس سے مریضوں کو علاج اور معالجے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرز کی غیر حاضری کی بنیادی وجوہات میں بلا اجازت چھٹیاں، سرکاری ڈیوٹی کے مقامات پر غیر موجودگی، اور نجی پریکٹس شامل ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے، اور مریضوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

مانیٹرنگ یونٹ نے رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ غیر حاضر میڈیکل افسروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، روسٹر میں اصلاحات کی جائیں اور فوری طور پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو مستقبل میں مریضوں کی سہولت کو یقینی بنا سکیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مسلسل غیر حاضری والے ہسپتالوں میں انتظامیہ کو فوری نگرانی بڑھانے اور مریضوں کے علاج میں خلل نہ آنے دینے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کم حاضری کا مسئلہ صرف انتظامی ناکامی نہیں، بلکہ اس کے اثرات صحت کے نظام کی مجموعی کارکردگی اور عوام کی صحت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top