پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی جس کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس نے پہلی بار ایک لاکھ 89 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر لی۔
کاروبار کے ابتدائی مرحلے میں ہی انڈیکس میں 805 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں واضح اضافہ ہوا۔
مارکیٹ کے ابتدائی تجزیات کے مطابق بینکنگ، آئل اینڈ گیس، توانائی اور سیمنٹ کے شعبوں میں زور دار خریداری نے انڈیکس کو بلند سطح تک پہنچایا۔
نہ صرف بڑے سرمایہ کار بلکہ چھوٹے سرمایہ کار بھی مارکیٹ میں سرگرم رہے، جس سے ٹریڈنگ والیوم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تیزی کے پیچھے معاشی اشاریوں میں بہتری، مہنگائی میں بتدریج کمی، شرح سود پر مثبت توقعات اور آئی ایم ایف پروگرام سے جڑی خبروں کا سازگار اثر شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں وسعت اور نجکاری کے اعلانات نے بھی مارکیٹ کے رجحان کو سہارا دیا ہے۔
سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اسٹاک مارکیٹ آئندہ دنوں میں مزید بلندیاں چھو سکتی ہے۔
مارکیٹ میں تیزی کے اثرات سرمایہ کاروں کے جذبات میں بھی واضح دیکھے گئے اور بروکریج ہاؤسز میں سرگرمی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی حالیہ کارکردگی ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے اور اس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔





