پشاور : خیبر پختونخوا اسمبلی نے ضلع لوئر چترال میں آباد دنیا کی نایاب ثقافت کی امین کیلاش برادری کے لیے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت کیلاش برادری میں فوتگی کی صورت میں حکومت کی جانب سے مالی مدد فراہم کی جائے گی۔
خیبر پختونخوا انڈومنٹ فنڈ (کیلاش برادری) بل 2026 صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اسمبلی میں پیش کیا، جسے ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔
بل کے مطابق انڈومنٹ فنڈ کی ابتدائی مالیت 10 کروڑ روپے رکھی گئی ہے، جس کی نگرانی متعلقہ ڈپٹی کمشنر کریں گے، جبکہ خواتین سمیت کیلاش برادری کے نمائندے بھی اس فنڈ کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
بل کے متن کے مطابق اس فنڈ کے قیام کا بنیادی مقصد کیلاش برادری جیسے نایاب ثقافتی ورثے کے حامل افراد کی مالی معاونت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے، بالخصوص فوتگی کے موقع پر آنے والے بھاری اخراجات میں ان کا بوجھ کم کرنا ہے۔
سابق صوبائی وزیر اور کیلاش برادری کے رہنما وزیرزادہ نے بل کی منظوری کو تاریخی اور انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کیلاش برادری کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں : علیمہ خان نے 8 فروری احتجاج کے حوالے سے بڑا اعلان کردیا
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے انڈومنٹ فنڈ کی رقم کو مستقبل میں 10 کروڑ سے بڑھا کر 20 کروڑ روپے تک کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے، جس سے تعلیم، سماجی بہبود اور معاشی خودمختاری کے مختلف منصوبوں میں کیلاش برادری کی مدد کی جائے گی۔
وزیرزادہ نے بتایا کہ کیلاش برادری میں فوتگی سب سے مہنگی تقریب ہوتی ہے، جہاں رسومات، کھانے اور دیگر انتظامات پر لاکھوں روپے خرچ آتا ہے، جو محدود وسائل کے باعث اکثر خاندانوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار حکومت نے فوتگی پر مالی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کیلاش برادری کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔
ان کے مطابق کیلاش برادری میں فوتگی کے موقع پر وادی بمبوریت، بریر اور ریمبور میں آباد تمام کیلاش افراد کو مدعو کیا جاتا ہے۔ کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ تین دن تک رسومات جاری رہتی ہیں، جس دوران ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا فوتگی والے خاندان کی ذمہ داری ہوتا ہے۔
وزیرزادہ نے بتایا کہ فوتگی کے موقع پر 30 سے 50 بکرے ذبح کیے جاتے ہیں، جس پر ہی 10 سے 15 لاکھ روپے تک خرچ آ جاتا ہے، جبکہ اس کے علاوہ پنیر اور دیسی گھی جیسے دیگر اخراجات بھی الگ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رسومات کے دوران فوت ہونے والے کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، ان کی بہادری اور خدمات کے قصے سنائے جاتے ہیں اور روایتی گیت گائے جاتے ہیں۔
کیلاش سے تعلق رکھنے والے رحمت کیلاش نے اس قانون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوتگی کے اخراجات ان کا سب سے بڑا اور پرانا مسئلہ تھا جو اب حل ہونے جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کیلاش مذہب کے مطابق پوری برادری کو جمع کیے بغیر فوتگی کی رسومات ممکن نہیں، اور جب لوگ جمع ہوتے ہیں تو ان کے لیے کھانے اور دیگر انتظامات کرنا لازمی ہوتا ہے۔
رحمت کیلاش کے مطابق رسومات کے دوران رات کے کھانے میں دیسی گھی اور پنیر جبکہ صبح کے وقت گوشت پیش کیا جاتا ہے، جس پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی، پیدائش اور دیگر تقریبات کے مقابلے میں فوتگی پر سب سے زیادہ خرچ آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پیپلز پارٹی خواجہ آصف کے بیان پر برہم، سخت ردعمل سامنے آ گیا
نئے قانون کے مطابق انڈومنٹ فنڈ سے مالی مدد کے حصول کے لیے درخواست دی جائے گی، جس پر متعلقہ کمیٹی اجلاس بلا کر درخواست کا جائزہ لے گی اور منظور ہونے کی صورت میں رقم جاری کی جائے گی۔
واضح رہے کہ کیلاش برادری ضلع چترال کی تین وادیوں بمبوریت، بریر اور ریمبور میں آباد ہے، اور خیبر پختونخوا حکومت کے سروے کے مطابق کیلاش کی آبادی تقریباً 4 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
کیلاش برادری اپنی منفرد ثقافت، صدیوں پرانے عقائد اور روایات کے باعث دنیا بھر میں ایک الگ شناخت رکھتی ہے، اور ان کے کئی تہوار سرکاری سطح پر بھی منائے جاتے ہیں۔
کیلاش برادری میں سوگ منانے کا انداز بھی منفرد ہے، جہاں ثقافتی رقص، روایتی گیتوں اور اجتماعی تقریبات کے ذریعے فوت ہونے والے کو یاد کیا جاتا ہے، جبکہ سوگوار خاندان پوری برادری کے لیے کھانے کا اہتمام کرتا ہے۔





