اسلام آباد : وزیراعظم کی الیکٹرک وہیکل ایڈاپشن اسکیم کے تحت آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس، رکشے اور لوڈرز کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، اور الیکٹرک بائیکس پر 80 ہزار روپے تک سبسڈی دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق اسکیم کے پہلے مرحلے میں منظور شدہ درخواست گزاروں کو سبسڈی منتقل کر دی گئی ہے۔ فیز ون میں کل 41 ہزار الیکٹرک گاڑیوں کو سبسڈی دی جا رہی ہے، جن میں 40 ہزار الیکٹرک بائیکس اور ایک ہزار رکشے و لوڈرز شامل ہیں۔
سبسڈی براہِ راست اسٹیٹ بینک کے ذریعے مستفید ہونے والے افراد کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جا رہی ہے۔
اس اسکیم کے تحت رواں مالی سال تقریباً 9 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی، جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2030 تک 100 ارب روپے سے زائد سبسڈی دی جائے۔
دوسرے مرحلے میں مزید 78 ہزار سے زیادہ الیکٹرک وہیکلز پر سبسڈی دی جائے گی، تاہم سبسڈی صرف رجسٹرڈ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ہی اہل ہوگی۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے حکام کا کہنا ہے کہ اسکیم کا مقصد نہ صرف سستی اور ماحول دوست سواری کو فروغ دینا ہے بلکہ ایندھن پر انحصار کو بھی کم کرنا ہے۔
اسکیم کے تحت الیکٹرک بائیکس اور رکشے بینک لیز اسکیم کے ذریعے آسان اقساط میں فراہم کیے جا رہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : موبائل پرپی ٹی اےٹیکس کے حوالے سے اہم پیشرفت،صارفین کے لیے خوشخبری
جبکہ دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے 62 اقسام کے استعمال شدہ اور پرانے برانڈڈ موبائل فونز کی درآمد کے لیے نئی کسٹمز ویلیوز مقرر کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو عالمی مارکیٹ میں رائج قیمتوں کے مطابق بنانا ہے۔
اس حوالے سے ویلیوایشن رولنگ نمبر 2035 آف 2026 جاری کر دی گئی ہے، جس کے تحت نئی ویلیوز کا اطلاق کمرشل بنیادوں پر درآمد کیے جانے والے بغیر پیکنگ اور لوازمات کے استعمال شدہ موبائل فونز پر ہوگا۔ ان میں ایپل، سام سنگ، گوگل پکسل اور ون پلس سمیت دیگر معروف برانڈز شامل ہیں۔
کسٹمز حکام کے مطابق سابقہ ویلیوایشن رولنگ ڈیڑھ سال سے زیادہ پرانی ہو چکی تھی اور موجودہ عالمی مارکیٹ کی صحیح عکاسی نہیں کر رہی تھی۔ اس دوران اسمارٹ فونز کے کئی نئے ماڈلز متعارف ہوئے جبکہ پرانے ماڈلز اپنی مدت استعمال پوری کر چکے تھے، جس کے باعث ڈیپریسی ایشن میں تبدیلی ضروری ہو گئی تھی۔





