صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا معدنی وسائل ترقی و انتظام کمپنی ایکٹ منظور کر لیا ہے۔
ایکٹ کے تحت کمپنی صوبائی حکومت کی ملکیت میں ہوگی اور صوبے کے معدنی وسائل کی دریافت، کان کنی، پراسیسنگ اور صنعتی استعمال کو فروغ دے گی نئی کمپنی کو سرمایہ کاری بڑھانے، منافع زیادہ کرنے اور معدنی وسائل کے موثر انتظام کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔
کمپنی سرکاری اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کر سکتی ہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بڑے منصوبے چلا سکتی ہے۔ مپنی کے فرائض میں معدنیات کی تلاش ، کان کنی، سعی ترقی، مارکیٹنگ اور برآمدات کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کی ترقی اور انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہے۔
کمپنی سرمایہ کاروں کے لیے ایک دن اسٹاپ سروس بھی فراہم کرے گی۔ کمپنی کے انتظام اور کار کردگی کی حکمرانی کے لیے ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز قائم ہوگا، جس میں صوبائی محکموں کے سیکرٹریز اور چار نجی شعبے کے ماہرین شامل ہوں گے۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے ہوگی۔ کمپنی کی مالی معاونت کے لیے معدنی ترقیاتی فنڈ قائم کیا جائے گا جس میں معدنی محصولات کے 45 فیصد سے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔





