متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قوانین مزید سخت کر دیے گئے ہیں جن کے تحت توہین آمیز پوسٹس، تبصروں یا کسی بھی قسم کے نازیبا مواد کی شیئرنگ پر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کسی فرد، ادارے یا کمپنی کے خلاف توہین آمیز مواد شائع کرنے پر 2 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
دبئی پولیس نے شہریوں اور غیر ملکیوں کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے یا توہین کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ بعض مقدمات میں ایک سال یا اس سے زائد قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق کچھ کیسز میں جرمانے اور قید، دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دی جا سکتی ہیں، جبکہ توہین آمیز مواد کو ری پوسٹ کرنے پر بھی وہی قانون لاگو ہوگا۔
دبئی پولیس اور پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے بارہا انتباہ جاری کیے جا چکے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی مواد شیئر کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر غور کیا جائے۔ 2025 اور 2026 کے دوران ایسے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جن میں افراد کو 50 ہزار درہم تک سول جرمانے بھی ادا کرنا پڑے۔
رپورٹ کے مطابق یہ قوانین صرف عوامی پوسٹس تک محدود نہیں بلکہ واٹس ایپ، نجی چیٹس اور حتیٰ کہ ڈیلیٹ کی گئی پوسٹس پر بھی لاگو ہوتے ہیںکیونکہ اسکرین شاٹس کو بطور ثبوت استعمال کیا جا سکتا ہے۔





