اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس آج منعقد ہوگا، جس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کا تعین کیا جائے گا۔ معاشی حلقوں میں اس اجلاس کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ سرمایہ کار اور تاجروں کی جانب سے پالیسی ریٹ کے سنگل ڈیجیٹ میں آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
گزشتہ مانیٹری پالیسی کے جائزے میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کی سطح پر لایا تھا۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق، افراط زر اسٹیٹ بینک کے مقررہ اہداف کے مطابق برقرار رہنے کی وجہ سے آج کے اجلاس میں شرح سود میں مزید کمی کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پالیسی ریٹ سنگل ڈیجیٹ تک لایا جاتا ہے تو یہ معیشت کے لیے اہم موڑ ثابت ہوگا۔ شرح سود میں کمی سے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے رجحان کو تقویت ملے گی، جس سے معیشت کے بحالی اور استحکام کی جانب واضح پیغام جائے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق، پالیسی ریٹ گزشتہ چار سال سے دہرے ہندسوں میں برقرار رہا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کے اخراجات اور کاروباری سرگرمیوں پر دباؤ رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کمی معیشت کے لیے مثبت اثرات مرتب کرے گی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہوگا۔
آج کے اجلاس کے فیصلے سے ملکی مالیاتی مارکیٹ، بینکنگ سیکٹر اور کاروباری حلقے بھی متاثر ہوں گے، اور سرمایہ کار اس کا بغور جائزہ لیں گے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر پالیسی ریٹ میں کمی کی گئی تو یہ نہ صرف معیشت کے لیے سہارا ہوگی بلکہ صارفین کے لیے بھی قرضوں کی لاگت میں کمی کا موقع فراہم کرے گی۔





