تیراہ آپریشن پر نیا تنازع، شفیع جان اور اختیار ولی خان آمنے سامنے

اسلام آباد: وادی تیراہ میں مبینہ آپریشن اور صورتحال پر سیاسی بیان بازی شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں شفیع جان اور اختیار ولی خان نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے کردار پر سوالات اٹھا دیے۔

شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر، وزیر داخلہ خواجہ آصف، طلال چوہدری اور عطااللہ تارڑ خود کہہ چکے تھے کہ آپریشن کیا جائے گا، تو اب اس تمام صورتحال کا الزام صوبائی حکومت پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیراہ کے عوام کو باقاعدہ طور پر ریسکیو کیا گیا اور وہ ذاتی طور پر تیراہ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اتوار کے روز آفریدی قوم کا جرگہ بلایا گیا ہے، جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ آپریشن کرانے کا فیصلہ کس کا تھا۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ سارا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ حقیقت مختلف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے 24 افراد میں سے 12 سے زبردستی دستخط لیے گئے، اور اتوار کو پورے پاکستان کو بتایا جائے گا کہ آپریشن کون کر رہا ہے اور اس کے پیچھے کون لوگ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وادی تیراہ اور کرم کے عوام کو تقاریر نہیں، واضح قیادت کی ضرورت ہے، فیصل کریم کنڈی

شفیع جان نے یہ بھی کہا کہ اختیار ولی خان کو اس لیے بھرتی کیا گیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کا مؤقف پیش کریں، نہ کہ پختون عوام کے مسائل کی بات کریں۔

انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر اور طلال چوہدری سے سوال کیا کہ اگر کارروائیاں انٹیلیجنس بیسڈ تھیں تو براہِ راست آپریشن کا نام کیوں لیا گیا۔

دوسری جانب اختیار ولی خان نے شفیع جان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت خود آپریشن کی حمایت میں تھی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پہلے کہا تھا کہ وہ آپریشن کریں گے اور کوئی انہیں روک نہیں سکتا، جبکہ اب وہ اس سے لاتعلقی ظاہر کر رہے ہیں۔

اختیار ولی خان نے دعویٰ کیا کہ نہ تو اضافی فوج تعینات کی گئی ہے، نہ کوئی نیا آپریشن پلان موجود ہے اور نہ ہی فوج کی جانب سے جبری نقل مکانی کا کوئی اعلان کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق یہ تمام دعوے پی ٹی آئی کی جانب سے کیے جا رہے ہیں جو زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے تیراہ میں 12 پولیس چیک پوسٹیں بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب تک ایک بھی قائم نہیں کی گئی، صرف دعوے کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وادیٔ تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروانے کا دعویٰ بے بنیاد، حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا

اختیار ولی خان نے کہا کہ ماضی میں ردالفساد اور ضربِ عضب جیسے واضح آپریشنز ہوئے تھے، جبکہ اس وقت نہ تو وفاقی حکومت نے اضافی فوج بھیجی ہے اور نہ ہی کسی بڑے آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے۔

پروگرام کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جہاں ایک جانب شفیع جان نے الزام لگایا کہ آپ لوگوں کو مروا رہے ہیں، تو جواب میں اختیار ولی خان نے کہا کہ یہ سب پی ٹی آئی کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ خود جا کر وزیراعظم سے بات کرے، مگر ان کا طرزِ عمل غیر سنجیدہ ہے، کبھی ایک جگہ خط لکھتے ہیں تو کبھی دوسری جگہ، کسی ایک مؤقف پر قائم نہیں رہتے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ سیکیورٹی فورسز اس مٹی کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، مگر پی ٹی آئی اس کے باوجود فورسز کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔

اختیار ولی خان کے مطابق پی ٹی آئی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، نہ کوئی نمایاں ترقیاتی کام ہوا، نہ تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دی گئی اور مجموعی کارکردگی صفر رہی۔

Scroll to Top