حکومت نے عمران خان کی تصاویر والی پتنگوں پر پابندی عائد کر دی، بسنت کے لیے سخت حفاظتی اقدامات نافذ ۔
بسنت 2026 کے موقع پر حکومت پنجاب نے عوامی امن و امان اور مذہبی و سیاسی جذبات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرتے ہوئے عمران خان اور دیگر شخصیات کی تصاویر والی پتنگوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق، 30 روز کے لیے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ بسنت کے دوران کسی بھی مذہبی یا سیاسی علامت، مقدس کتاب، مذہبی مقام یا کسی شخصیت کی تصویر والی پتنگ استعمال کرنا ممنوع ہوگا۔ اس کے علاوہ کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے والی پتنگوں پر بھی پابندی عائد ہے۔ بسنت کے موقع پر صرف یک رنگی یا کثیر رنگی پتنگوں کا استعمال قانونی ہوگا، جس میں کوئی سیاسی یا مذہبی نشانی نہیں ہونی چاہیے۔
قانون کی سختی اور دفعہ 144 کی نفاذبسنت پر اشتعال انگیزی اور عوامی امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔
حکومت پنجاب نے واضح کیا ہے کہ مقررہ تاریخوں سے قبل یا ممنوعہ مواد کے استعمال پر 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص ممنوعہ پتنگ یا مواد تیار یا فروخت کرے تو اسے 7 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
محفوظ بسنت کی مشروط اجازتڈپٹی کمشنر لاہور نے پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت بسنت 2026 کے لیے نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔ حکومت نے بسنت کو ایک تفریحی تہوار کے طور پر محفوظ طریقے سے منانے کی اجازت دی ہے، مگر کسی قسم کی قانون شکنی یا اشتعال انگیزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے تاکہ بسنت کے دوران کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ حکومت پنجاب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پابندیوں کی مکمل پیروی کریں اور بسنت کو امن و امان کے ساتھ منائیں۔





