خیبر پختونخوا کے مشیراطلاعات کا وادی تیراہ میں آپریشن سے متعلق عوام کو گمراہ کرنے والا خط منظرعام پرآگیا

خیبر پختونخوا حکومت اور اس کے اپنے مشیر اطلاعات و نشریات شفیع جان کے بیانات کے درمیان تضاد سامنے آ گیا ہے، جہاں ایک طرف صوبائی حکومت نے تیراہ وادی میں ریلیف آپریشن کے لیے ایمرجنسی نافذ کی، وہیں دوسری جانب وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے اس اقدام کو غلط قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کو سیکیورٹی اور امدادی کارروائیوں سے متعلق گمراہ کن خط لکھ دیا ہے۔

26 دسمبر 2025 کو خیبر پختونخوا کے ریلیف، بحالی و آبادکاری محکمہ نے قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2010 کے سیکشن 16(A)(1) اور (2) کے تحت ضلع خیبر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نوٹیفکیشن سیکرٹری سہیل خان کے دستخط سے جاری کیا گیا، جس کی بنیاد ڈپٹی کمشنر خیبر کی رپورٹ تھی، جس میں تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے آبادی کی متوقع عارضی اور رضاکارانہ نقل مکانی کی نشاندہی کی گئی تھی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، آبادی کی ممکنہ نقل مکانی مقامی لوگوں کی خواہشات کے مطابق تھی، جو ضلعی سطح پر منعقدہ نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئیں، اور اس میں موسمی، لاجسٹک اور دیگر زمینی حقائق کو مدنظر رکھا گیا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد نقل و حمل، خوراک، عارضی رہائش، رجسٹریشن پوائنٹس اور دیگر امدادی انتظامات کو ممکن بنانا بتایا گیا۔

نوٹیفکیشن کے تحت صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں فوری طور پر شروع کرنے کا اختیار دیا گیا، جبکہ تمام اخراجات ریلیف اکاؤنٹ سے پورے کرنے اور مالی و اسٹاک ریکارڈ کی سختی سے دیکھ بھال کی ہدایت کی گئی۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ ایمرجنسی کا نفاذ ‘صرف انسانی ہمدردی کی تیاری اور امدادی سہولت کاری‘کے لیے ہے۔

تاہم دوسری جانب وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کو ایک خط لکھ دیا ہے جس میں اس سارے آپریشن کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر ڈال کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

شفیع جان نے خط میں دو رخی صورت حال بیان کرتے ہوئے لکھا کہ اس امدادی سرگرمیوں سے معاشی سرگرمیاں متاثر
ہوتی ہیں اور بقول ان کے جبری نقل مکانی جنم لیتی ہے حالانکہ 26 دسمبر کو صوبائی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں اس آپریشن کی خود باضابطہ اجازت دی تھی۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انخلا کے احکامات صوبائی حکومت اور منتخب قیادت سے مشاورت کے بغیر جاری کیے گئے، جس کے باعث صوبائی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کرنا پڑی، حالانکہ یہ نوٹیفکیشن خود کے پی کی صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

شفیع جان نے مقامی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے مختص رقم میں کی گئی کرپشن کو چھپاتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کو لکھا کہ ’وفاقی اختیار کے تحت کیے گئے اقدامات، بشمول ’امداد اور سول اختیارات ‘ کے تحت کارروائیوں کے نتیجے میں متاثرین کی بحالی، ریلیف اور معاوضے کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

جب کہ وفاقی حکومت نے اس آپریشن کے لیے 4 ارب روپے جاری کیے تھے، جو کہ صوبائی حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول، احتجاج، جلسوں، ریلیوں اور مظاہروں کی نذر کر دیے ہیں۔ اب جب تیراہ کے عوام نے اپنا حق مانگنا شروع کیا تو ان کے وزیر آئیں بائیں شائیں کرنا شروع ہو گئے ہیں۔

صوبائی مشیر اطلاعات نے دوغلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئینی توازن، شفافیت اور پالیسی و زمینی حقائق میں ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبادی کی نقل مکانی اور سیکیورٹی آپریشنز جیسے حساس معاملات پر وفاقی سطح کے بیانات زمینی حقائق کے مطابق ہونے چاہییں۔

تیرہ وادی کی صورتحال پر سامنے آنے والے خیبر پختونخوا حکومت کے اس دوغلے مؤقف نے صوبائی حکومت کے اندر پالیسی ہم آہنگی اور وفاق و صوبے کے درمیان رابطہ کاری پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Scroll to Top