اسلام آباد: وزیردفاع خواجہ آصف نےکہا کہ افغانستان کے ساتھ واقع وادیوں میں برف باری کے دوران مائیگریشن شروع ہو جاتی ہے اور یہ کچھ ماہ رہتی ہے۔ وہیں، لوگ اپنے گھروں میں ایک دو افراد چھوڑ جاتے ہیں۔
زیراطلاعات عطا تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےوزیردفاع نے کہا کہ اس بات کا تذکرہ برٹش گزٹس میں بھی موجود ہے اور یہ سب ایک معمول ہے۔ اسی مدنظر گیارہ دسمبر کو ایک جرگہ ہوا جس میں بارہ تیرہ مشران شریک ہوئے۔ یہ مشران ٹی ٹی پی کے پاس بھی گئے اور صوبائی حکومت کے پاس بھی، اور دونوں سے ملاقات کی۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد مائیگریشن کا پیکج لیا گیا اور صوبائی حکومت کی دستاویز بھی دکھائی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس علاقے میں فوج کی تعیناتی کا اس سب سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ ارینجمنٹ جرگہ اورخیبرپختونخوا حکومت کے درمیان طے پایا۔
وزیردفاع نے مزید کہا کہ کئی سال پہلے فوج نے اس علاقے میں آپریشن کیا تھا لیکن آئی ڈی پیز کو سامنے رکھتے ہوئے آپریشن ترک کردیا۔ اس سارے علاقے میں نہ کوئی ہسپتال، نہ سکول اور نہ تھانہ موجود ہے۔ پہلے جرگے کے ساتھ طے پایا تھا کہ یہاں سکول، ہسپتال اور تھانہ بنائے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں سویلین لاء انفورسمنٹ کی کوئی موجودگی نہیں ہے اور بہت سخت سردی پائی جاتی ہے۔ یہاں بارہ ہزار ایکڑ پر ہیمپ کی کاشت ہوتی ہے، جس کا فی ایکڑ بہت منافع ہے اور یہی مسائل کی جڑ ہے۔ اس ہیمپ کی ادویات یا تو سیاسی لوگوں کی جیب میں جاتی ہیں یا ٹی ٹی پی کے پاس۔
وزیردفاع نے کہا کہ حکومت اس ساری صورتحال کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی لیے وہاں سکول اور تھانے بنائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے لوگ اپنے مفادات کے لیے ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ سارے معاملے کو طے کرنے کے لیے سویلین حکومت اور جرگہ مل کر کام کر رہے ہیں۔ جرگے کی تشکیل کئی سال پہلے کی گئی تھی اور صوبائی حکومت کے نوٹیفیکیشن اور جرگہ کی موجودگی میں فوج راڈار پر نہیں ہے۔
وزیردفاع نے کہا کہ کے پی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود نہیں۔ یہاں موسم سرما میں مائیگریشن کئی صدیوں سے جاری ہے اور یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے جسے پی ٹی آئی حکومت نے غیر معمولی بنانے کی کوشش کی ہو۔ صوبائی حکومت اپنی کوتاہی اور نااہلی کو کور کرنے کے لیے ذمہ داری کہیں اور منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نوٹیفیکیشن صوبائی حکومت کا اپنا ہے، اگر چاہیں تو لے لیں واپس۔ سہولیات فراہم نہ کرنا صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے بعض مفادات کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے جڑے ہوئے ہیں جس کے باعث حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس پورے معاملے میں پاک فوج کا کوئی کردار نہیں اور فوج پر الزام لگانا محض اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کے آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی بڑھی۔ پانچ مرتبہ کوشش کی گئی کہ بات چیت کے ذریعے حل نکالا جائے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہوا۔ کابل میں فرنچائز الگ ہے، قندھار میں الگ ہے اور اپنے اختلافات بھی اس صورتحال کی وجہ ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑنے کہا کہ برٹش گزٹ میں لکھا ہے کہ تیراہ کے قبائل دیگر علاقوں کے قبائل سے مختلف ہیں۔ 1899 میں شائع ہونے والی کتاب میں بھی یہ ذکر ہے کہ تیراہ کے قبائل ہر سردیوں میں ہجرت کرتے ہیں۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ رچائے گئے ڈرامے کے مقاصد کیا ہیں۔ تیراہ اپریشن کیلئے مختص چار ارب روپے سے پیسے نکالے جاتے اور اسٹریٹ موومنٹ پر لگائے جا رہے ہیں۔ یہ پراجیکٹ مال بنانے کے لیے بنایا گیا۔ آٹھ فروری کے احتجاج کے لیے تیراہ کے عوام کو اپنی بھٹی کا ایندھن بنایا گیا ہے۔





