شہزاد نوید
انسداد دہشت گردی عدالت سوات نے سنگوٹہ سکول فائرنگ واقعے کے ملزم عالم خان کو عمر قید سمیت مختلف سزائے سنائیں۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت-I ملاکنڈ ڈویژن سوات کے خصوصی جج شوکت احمد خان نے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عالم خان کو دہشت گردی، بچوں پر تشدد اور اقدامِ قتل سمیت مختلف دفعات کے تحت قصوروار قرار دے دیا۔
فیصلے کے مطابق استغاثہ نے براہِ راست شہادت، طبی شواہد، آلہ قتل پر ملزم کے فنگر پرنٹس، جائے وقوعہ سے برآمد شدہ خالی کارتوس، خون آلود کوسٹر گاڑی اور ملزم کے اعترافی بیان کے ذریعے جرم کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم نے طالبات پر فائرنگ کر کے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔
عدالت نے ملزم کوعمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7(1)(a) کے تحت، 10 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ دفعہ 7(1)(c) کے تحت،2 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت،5 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ دفعہ 324 پی پی سی (اقدامِ قتل) کے تحت سزائیں سنائیں۔
متاثرہ بچیوں کو مختلف نوعیت کی چوٹوں پردیت و دَمان اور اضافی قید بطور تعزیر کیا گیا ۔
عدالت نے واضح کیا کہ تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی اور ملزم کو دفعہ 382-B کے تحت رعایت بھی دی گئی ہے۔
تاہم مقتولہ عائشہ اور دیگر زخمی بچیوں کے ورثاء کے ساتھ صلح کی بنیاد پر ملزم کو قتل اور بعض دیگر دفعات سے بری کر دیا گیا۔





