بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے انسداد منشیات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
مختلف واقعات میں فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 6 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور حساس آلات برآمد کیے گئے۔
کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار زخمی ہوا جس کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔
پہلا واقعہ زرڈ کور ہرمگے میں پیش آیا جہاں دہشتگردوں کی جانب سے آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ پارٹی پر فائرنگ کی گئی۔ فورسز نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کی، جس کے بعد تقریباً 15 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
بعد ازاں علاقے کی کلیئرنس کے دوران تین لاشیں برآمد ہوئیں جن میں ایک دہشت گرد اور دو افغان باشندے شامل تھے۔ اس جھڑپ میں سیکیورٹی فورسز کا ایک جوان گولی لگنے سے زخمی ہوا، جسے فوری طور پر ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق افغان باشندوں کے افیون کی کاشت میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں ۔
دوسری کاروائی میں مشتبہ خاتون نرگس کی دہشت گردوں کے ساتھ نقل و حرکت کی اطلاع پر ناکے اور اسنیپ چیکس قائم کیے گئے۔ جسک باڈر کے قریب ایک سلور کرولہ گاڑی نے چیک پوسٹ سے بچنے کی کوشش کی جس پر فوری تعاقب کیا گیا۔بی ایل اے کے دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کی، جس پر کوئیک رسپانس فورس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دو دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک کی شناخت سلیم (بی ایل اے سے تعلق) کے طور پر ہوئی۔ گاڑی کی تلاشی کے دوران آر پی جی، ایم فور رائفلز، دستی بم، نائٹ وژن ڈیوائسز، مواصلاتی آلات اور بڑی تعداد میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز کی ایک اور کاروائی میں اسنائپر کارروائی کے دوران دہشت گرد جلیل عرف جورک شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں ہلاک ہو گیا۔ دہشت گرد تنظیم بی ایل ایف نے اس کی ہلاکت کی تصدیق بھی کر دی ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق ان کارروائیوں سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے اورحکام کے مطابق علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔





